آوارہ جانور ہی متاثر ، کاروبار شدید متاثر ، دفتر سیاست سے تاجرین کا وفد رجوع
حیدرآباد۔13۔اکٹوبر(سیاست نیوز) مسالخ میں ذبح کئے جانے والے جانورگانٹھ کی بیماری سے پاک ہیں کیونکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے تمام مسالخ میں جانوروں کو ذبح کرنے سے قبل ان جانوروں کی جانچ کر رہی ہے۔ ویٹرنری عہدیداروں کے مطابق صحتمند جانور کو ذبح کئے جانے کے باوجود قریش برادری کے کاروبار متاثر ہورہے ہیںجو کہ ملک بھر میں لمپی وائرس کے سبب پیدا ہونے والی دہشت ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآبا دمیں گوشت کے تاجرین کو درپیش مسائل اور وائرس کی اطلاعات کے سبب تجارت متاثر ہونے سے پریشان اور تشویش کا شکار تاجرین نے آج دفتر سیاست پہنچ کر وائرس کی اطلاعات کے سبب پیدا ہونے والے تجارتی مسائل سے واقف کروایا اور کہا کہ وائرس کا شکار آوارہ جانوروں سے مسالخ کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بڑے جانور میں پائے جانے والے وائرس سے عوام میں دہشت پیدا ہورہی ہے اور لوگ گوشت کے استعمال سے اجتناب کر رہے ہیں جو کہ قریش برادری کے لئے تکلیف دہ ثابت ہورہا ہے۔ شہر کی سڑکوں پر لمپی وائرس کا شکار بڑے جانوروں کے سبب شہریوں میں خوف پیدا ہونے لگا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ گذشتہ یوم سلطان شاہی ‘ تالاب کٹہ اور مغلپورہ کے علاقوں میں گانٹھ کے مرض کے شکار آوارہ مویشیوں کے سبب شہریوں میں خوف ودہشت پیدا ہوگئی اور علاقہ کے مکینوں نے ان متاثرہ جانوروں کو گنجان آبادی والے ان علاقوں سے نکالنے اور لیجانے کے لئے متعلقہ محکمہ جات کو مطلع کیا ۔ اسی طرح پرانے شہر کے بعض دیگر علاقوں میں بھی گانٹھ کی بیماری کا شکار جانوروں کی بڑی تعداد دیکھی جانے لگی ہے ۔قریش برادری سے تعلق رکھنے والے تاجرین نے بتایا کہ لمپی وائرس کے متعلق خبروں کے سبب ان کے کاروبار متاثر ہورہے ہیں جبکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیدار تمام مسالخ پر متعین جانوروں کی جانچ کر رہے ہیں ۔ عہدیداروں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہاہے کہ شہر حیدرآباد میں اب تک لمپی وائرس کا شکار ایک بھی جانور نہیں دیکھا گیا ہے جبکہ شہر میں آوارہ گھوم رہے مویشیوں میں قابل دید وائرس کے اثرات سے لوگوں میں خوف پیدا ہورہا ہے ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے کئی گاؤشالہ میں موجود جانوروں کا بھی جی ایچ ایم سی کی جانب سے معائنہ کرتے ہوئے وائرس کا شکار جانوروں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ماہرین مویشیان کے مطابق جانور کی جلد میں پائی جانے والی اس بیماری کے متعلق کہا جا رہاہے کہ یہ بیماری کوئی نئی نہیں ہے لیکن گذشتہ چند ماہ سے تیزی سے پھیل رہی ہے۔م