ناسک۔ مسلم نوجوان کے ساتھ ہندو لڑکی کی شادی کروانے پر ایک پجاری کے چہرہ پر سیاہی پوت دی گئی۔ مہاراشٹرا کے ناسک میں پنچایتی علاقہ میں یہ واقعہ پیش آیا ہے ۔ ناسک کے امبڑ لنک روڈ علاقہ میں مقیم ایک 30 سالہ مسلم نوجوان کی اگات پوری تعلقہ کے موضع ادھرواڑکی 18 سالہ لڑکی سے شادی کا سرٹیفکیٹ 8 نومبر کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ شری رام ویدک میریج سنستھان نامی ادارہ نے اس شادی کا اہتمام کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کالا رام مندر کے باہر یہ شادی انجام دی گئی تھی۔ اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد بعض برہم ہندو نوجوان رات تقریباً 8 بجے شری رام وواہ سنستھان پہنچے۔ بعدازاں اس ادارہ کو چلانے والے اومیش عرف گریش اروند پجاری سے اس شادی کے بارے میں پوچھ تاچھ کی گئی۔اسی دوران بعض برہم کارکن گریش اروند پجاری کے اطراف جمع ہوگئے اور مبینہ طور پر مارپیٹ کی۔ برہم کارکنوں نے شادی دفتر کے بورڈ پر مٹی بھی پھینکی اور نعرے لگائے۔ جب اومیش پجاری نے ہاتھ جوڑکر معافی مانگی تو برہم کارکن ٹھنڈے ہوئے اور اسے آخری انتباہ دیتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوگئے۔