مسلم لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادیاں عروج پر‘ ملت کے ذمہ دار خاموش

   

قوم خواب غفلت کا شکار ۔ بنیادی وجوہات تک پہونچنے کیلئے کوئی تیار نہیں۔ معاشرہ کی خرابیوں کو دور کرنے پر توجہ بھی ضروری

حیدرآباد۔5۔جون۔(سیاست نیوز) ملک میں ’لو جہاد‘ کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی تنظیموں نے مسلمانوں کو خواب غفلت میں رکھتے ہوئے مسلم لڑکیوں کو نشانہ بنانے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ حیدرآباد پہنچ چکا ہے اور شہر میں غیر مسلم لڑکوں سے مسلم لڑکیوں کی شادیوں کا سلسلہ تھم نہیں رہا ہے بلکہ آزاد خیالی کے نام پر ان شادیوں کو فروغ مل رہا ہے لیکن اس مسئلہ پر نکیل کسنے یا مسلمانوں میں دینی شعور بیدار کرنے میں تمام گوشوں نے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کف لسان کا موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دونوں شہروں میں غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرنے والی لڑکیوں کی تصاویر اور ان کے پتہ کے ساتھ سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ہیں لیکن ملت کے ذمہ داروں کی جانب سے خاموشی اختیار کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ایسی خبروں کی تشہیر ملت کی رسوائی کا سبب بن سکتی ہیں ۔ کہا جا رہاہے کہ آزاد خیالی اور بے راہ روی کے سبب یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی اگر مسائل کا جائزہ لیا جائے تو مسلم معاشرہ میں شادی کو اس قدر مشکل بنادیا گیا کہ جو لڑکیاں تعلیم یافتہ ہیں وہ اس صورتحال سے نمٹنے کے نام پر غیر مسلم نوجوانوں کے دام محبت میں گرفتار ہورہی ہیں اور انہیں احساس نہیں ہورہا ہے کہ وہ دین سے باہر ہو رہی ہیں ۔ شادیوں میں لڑکی کے انتخاب کی ترجیحات اور جہیز کی لعنت ہی نہیں بلکہ کئی امور ہیں جن کی وجہ سے نوجوان لڑکیاں حدود سے تجاوز کرکے غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرنے لگی ہیں ۔ شادی بیاہ کی کونسلنگ والے اداروں اور ماقبل نکاح کونسلنگ کے اداروں سے رجوع ہونے والوں کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آرہی ہے کہ مسلم نوجوانوں کی ترجیحات سے لڑکیاں عاجز آنے لگی ہیں ۔ معاشرہ میں اس برائی کی بنیادی وجوہات کے متعلق آگہی حاصل کرنے کی کوشش کے دوران بہ آسانی یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ دین سے دوری نوجوان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے دام محبت میں گرفتار ہورہی ہیں لیکن جہیز کی لعنت کا شکار معاشرہ ‘ پرتعیش زندگی ‘ سود ی قرض حاصل کرکے تقاریب کا انعقاد کرنے والوں پر دین سے دوری کا کوئی الزام عائد نہیں کیا جاتا جبکہ جہیز کی لعنت کا شکار معاشرہ ‘ پرتعیش کھانوں اور تقاریب کیلئے سودی قرض سے جھوٹی شان و شوکت کا اظہار کرنا بھی دین سے دوری کا نتیجہ ہے۔ محترمہ خالدہ پروین جو کہ شادی شدہ جوڑوں کی کونسلنگ اور دیگر سماجی خدمات انجام دیتی ہیں نے بتایا کہ مسلم لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادیاں ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس کی مختلف وجوہات ہیں جن میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے مطابق رشتہ نہ ملنا بھی اہم وجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد رشتہ کا انتظار کرتی ہیں جبکہ لڑکوں کی اعلیٰ تعلیم کے بعد والدین جہیز اور ان کے مطالبات کے نام پر لڑکیوں کو مسترد کر رہے ہیں جو بڑا المیہ ہے۔ اس کے علاوہ لڑکیوں کے نین نقش اور قد کو بنیادبنا کر مسترد کیا جا رہا ہے جو کہ لڑکیوں کیلئے تکلیف دہ ہے۔ علاوہ ازیں دنیوی تعلیم کیلئے دینی تعلیم سے دوری کا نتیجہ بھی ہے جو لڑکیاں اس طرح کے اقدام کررہی ہیں۔ مسلم لڑکیوں کی غیرمسلم نوجوانوں سے شادی کے سد باب کیلئے لازمی ہے کہ نکاح کو آسان کرکے ان ترجیحات کو اختیار کیا جائے جو نبی اکرمﷺ نے بتائی ہیں اور ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو تباہی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ محترمہ خالدہ پروین نے بتایا کہ یہ ضروری نہیں کہ غیر مسلم لڑکوں کو یا غیر مسلم تنظیمو ںکو اس کیلئے ذمہ دار قراردیا جائے کیونکہ مسلم لڑکیوں کو ایسی سرگرمیوں سے روکنا مسلم والدین ‘ سرپرستوں‘ تنظیموں کے علاوہ معاشرہ کی ذمہ داری ہے ۔م