مسلم معاشرہ کیلئے لمحہ فکر، برقعہ پوش لڑکی کی بار اینڈ ریسٹورنٹ میں داخلہ کی کوشش

   

باونسرس کی رکاوٹ پر بحث و تکرار، سماجی حلقوں میں ہوش کے ناخن لینے کا موجب

حیدرآباد۔/13 نومبر، ( سیاست نیوز) حیدرآبادی اسلامی معاشرہ کہیں مغربیت کے در پر تو نہیں پہونچ گیا؟ اسلام میں شراب اور خنزیر کے گوشت کو حرام قرار دیا گیا ہے اور ایسے مقامات سے گریز کرنے کی تاکید کی گئی ہے جہاں شراب کھلے عام فروخت ہوتی ہے یا پھر شراب کا کھلے عام چلن ہو۔ اسلام کے ماننے والے ان تعلیمات کو ترک کرتے ہوئے دنیا و آخرت میں سرخرو نہیں ہوسکتے۔ شہر حیدرآباد میں اس طرح کا ایک رونگھٹے کھڑا کردینے والا واقعہ پیش آیا جہاں جوبلی ہلز کے پاش علاقہ میں واقع ایک بار اینڈ ریسٹورنٹ میں برقعہ پوش نوجوان لڑکی کو روک دیا گیا۔ برقعہ پوش زرین کو ریسٹورنٹ کے باونسر اور منیجر نے اس لئے روک دیا کہ وہ شراب سربراہ کئے جانے والے حصہ ( سیکشن ) میں داخل ہونا چاہتی تھی۔ لڑکی کی حفاظت اور برقعہ کو دیکھ کر ہوٹل والوں نے اسے روک دیا۔ یہ واقعہ راز ہی میں تھا لیکن خود لڑکی نے سوشیل میڈیا ورکنگ سائیٹ پر اس کو پیش کردیا اور بار اینڈ ریسٹورنٹ کے ذمہ داروں پر الزام لگاتے ہوئے کہاکہ اس لڑکی کو محض برقعہ کے سبب روک دیا گیا، اس کی بے عزتی کی گئی اور رسواء کیا گیا۔ لڑکی اپنی رشتہ دار لڑکی اور ساتھی لڑکیوں کے ہمراہ اس بار اینڈ ریسٹورنٹ میں پہونچی تھی۔ ریسٹورنٹ کے عملے نے لڑکی کو اس وقت روک لیا جب وہ شراب والے سیکشن میں داخل ہونا چاہتی تھی۔ ریسٹورنٹ کے ذمہ داروں اور باونسر سے لڑکی نے طویل بحث مباحثہ کیا۔ ریسٹورنٹ کے ذمہ دار نے لڑکی کو سمجھانے کی کوشش کی کہ انہیں کورٹ ہال میں موجودگی پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ شراب کے مقام پر لڑکی کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہ بات لڑکی کو ناگوار گذری اور اس نے برقعہ کے سبب روکنے کا الزام لگاتے ہوئے سوشیل میڈیا پر پوسٹ کردیا۔ اس پوسٹ کے بعد مختلف گوشوں سے لڑکی کی خوب کھینچائی ہوئی اور عوام نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ لڑکی پر سوالات کی بوچھار کرتے ہوئے کسی نے ڈانٹ ڈپٹ اور تنبیہ کی تو کسی نے مفید مشورہ دیا۔ اس بار اینڈ ریسٹورنٹ میں زرین کے ہمراہ موجود لڑکیوں اور زرین کی عمر 21 تا 25 سال کے درمیان ہے۔ ایک ایسا مقام جہاں شراب اور خنزیر کا گوشت فروخت ہوتا ہے کیا اس مقام پر مسلمان وہ بھی نوجوان لڑکی کو برقعہ پہن کر جانا زیب دیتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد سوشیل میڈیا کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات میں والدین کی تربیت پر اٹھایا گیا سوال سب سے زیادہ تکلیف دہ رہا۔ اسلامی تعلیمات سے دوری اسلامی تعلیمات کی فراہمی سے لاپرواہی، لڑکیوں کی تربیت پر عدم توجہ، خود مختاری کے نام پر خود کو تباہ کرنے والا یہ رجحان مسلم معاشرہ کے لئے لمحہ فکر ہے اور اولین فرصت میں اصلاح کا اشارہ دیتا ہے۔ تباہی کے دہانے پر پہونچے اس رجحان اور فیشن کو اسلامی ڈور سے فوری باندھا نہیں جاتا ہے تو پھر وہ دن دور نہیں جس کے قصے اور واقعات جو کبھی ہم نے علماء سے سنے تھے اس کا موجودہ دور میں سامنا کرنا پڑے۔ یہ واقعہ ملی، مذہبی اور مسلم سماجی حلقوں اور تنظیموں میں ہوش کے ناخن لینے کا موجب بن گیا ہے۔ جس تہذیب نے دنیا کو درس دیا آج اس کے ماننے والے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے رسوائی کا سبب بن رہے ہیں۔ ع