مسلم ناموں سے موسوم شہروں سے بی جے پی کے پیٹ میں تکلیف

   


حیدرآباد کو بھاگیہ نگر ، کریم نگر کو کری نگر ، نظام آباد کو اندور سے پکارتے ہوئے اصلی ناموں سے چھیڑ چھاڑ
حکومت اور نفاذ قانون کی ایجنسیاں خاموش تماشائی ، عوام کے جذبات مجروح
محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد ۔ 15 ۔ دسمبر : ریاست تلنگانہ کے مسلم ناموں سے موسوم شہروں اور اضلاع ہیڈکوارٹرس بی جے پی کو کھٹکنے لگے ہیں ۔ بی جے پی کے قائدین اپنی تقاریر اور اخبارات میں دئیے جانے والے اشتہارات میں ان شہروں کے ناموں کی شبیہہ کو بگاڑتے ہوئے اصلی ناموں کے بجائے انہیں دوسرے نام دئیے جارہے ہیں اور ریاستی حکومت اور سرکاری مشنری اس کا تماشہ دیکھ رہی ہے ۔ اصلی ناموں کی شبیہہ بگاڑنے والوں کے خلاف نہ کوئی کارروائی کی جارہی ہے اور نہ ہی نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی جارہی ہے ۔ زعفرانی طاقتوں کی جانب سے حیدرآباد کو بھاگیہ نگر ، نظام آباد کو اندور ، کریم نگر کو کری نگر ۔ حسین ساگر کو ونائیک ساگر ، معظم جاہی مارکٹ کو ونائیک چوک سے پکارا جارہا ہے ۔ دیگر مسلم ناموں سے موسوم شہر اور اضلاع بالخصوص عادل آباد وغیرہ پر بھی اعتراض کیا جارہا ہے ۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کی پانچویں مرحلے کی پدیاترا کا آج کریم نگر میں اختتام ہورہا ہے ۔ جلسہ عام میں بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا شریک ہورہے ہیں ۔ اس کے لیے تلگو اور انگریزی اخبارات میں بی جے پی کی جانب سے بڑے بڑے اشتہارات دئیے گئے ہیں جس میں کریم نگر کے ناموں کو کری نگر لکھا گیا ہے ۔ پتہ نہیں مسلمانوں اور مسلم شخصیتوں اور ان کے ناموں سے موسوم شہروں سے کیا پریشانی ہے کیوں ان کے پیٹ میں درد ہورہا ہے ۔ ہر مسئلہ کو ہندو مسلم کردینا بی جے پی کے ایجنڈے میں شامل ہوگیا ہے ۔ ہندوستان کی اپنی ایک روایت ہے ۔ تاریخی واقعات ، اہم شخصیتوں کے کارناموں ، عوامی خدمات کا ریکارڈ رکھنے والی شخصیتوں کو خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کرنے اس طرح کے نام رکھے جاتے ہیں ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے حلقہ لوک سبھا کریم نگر کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ انہوں نے جب کامیابی حاصل کی تھی تو ریٹرننگ آفیسر نے انہیں کریم نگر کے رکن پارلیمنٹ ہونے کا سرٹیفیکٹ پیش کیا تھا کہیں بھی ان کے سرٹیفیکٹ پر کری نگر نہیں تھا ۔ اس طرح حلقہ لوک سبھا نظام آباد سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ انہیں بھی کامیابی کا جو سرٹیفیکٹ حاصل ہوا ہے ۔ اس میں اندور لفظ کہیں بھی شامل نہیں ہے ، نظام آباد درج ہے ۔ اس کے علاوہ حیدرآباد لوک سبھا کی بھی یہی صورتحال ہے نہ ہی اسد الدین اویسی کے کامیابی کے سرٹیفیکٹ میں بھاگیہ نگر کا نام نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ سرکاری ، عدالتی اور خانگی خط و کتابت اور احکامات میں ان ناموں کو اصلی ناموں سے پکارا جاتا ہے ۔ مگر بی جے پی کے قائدین سیاسی مفاد پرستی کی خاطر ماحول کو بگاڑنے کے ساتھ عوام کے جذبات کو ٹھیس پہونچا رہے ہیں ۔ حکومت اور نفاذ قانون کی ایجنسیاں تماشائی بنی ہوئی ہیں ۔۔ ن