اجمیر میں رباط کی تعمیر، جہانگیر پیراںؒ درگاہ کی ترقی، عالمی طرز کے اسلامک سنٹرکے مسلمان منتظر
حیدرآباد ۔ 11 جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے انتخابی منشور کے علاوہ اسمبلی کے پلیٹ فارم کے علاوہ دوسرے مواقعوں پر ڈھیر سارے وعدے کئے۔ 8 سال سے تلنگانہ کے مسلمان ان وعدوں پر عمل آوری کا انتظار کررہے ہیں۔ ان تحریروں کے ذریعہ مسلمانوں کیلئے کوئی نیا مطالبہ نہیں کیا جارہا ہے بلکہ ماضی میں جو وعدے کئے گئے تھے اس کی یاد دہانی کرائی جارہی ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد 2014ء میں ٹی آر ایس نے پہلی حکومت تشکیل دی۔ اس وقت چیف منسٹر کے سی آر نے اجمیر میں تلنگانہ کے مسلمانوں کیلئے رباط تعمیر کرنے کا وعدہ کیا اور بجٹ میں 5 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی۔ ٹی آر ایس حکومت کے 8 سال مکمل ہوگئے مگر اجمیر میں آج تک رباط تعمیر نہیں ہوئی۔ کیا اس کیلئے تلنگانہ حکومت ذمہ دار نہیں ہے۔ اس وقت یہ دعویٰ کیا گیا کہ راجستھان میں بی جے پی کی حکومت جو رباط تعمیر کرنے میں تعاون نہیں کررہی ہے، فی الحال راجستھان میں کانگریس کی حکومت ہے پھر اب کیوں ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے۔ رباط تعمیر کرنے کیلئے کیوں پہل نہیں کی جارہی ہے۔ جہانگیر پیراںؒ درگاہ کی ترقی کیلئے چیف منسٹر نے دو سال قبل 50 کروڑ روپئے کا اعلان کیا مگر ابھی تک کوئی ترقیاتی کام شروع نہیں ہوئے۔ کیوں نہیں ہوئے؟حکومت ہی اس کی وضاحت کریں۔ اس کے علاوہ شہر کے کوکہ پیٹ میں عالمی طرز کا اسلامک سنٹر قائم کرنے کا نہ صرف اعلان کیا گیا بلکہ 10 ایکر اراضی کے ساتھ 10 کروڑ روپئے بھی مختص کئے گئے۔ تین سال مکمل ہونے کے باوجود اسلامک سنٹر ابھی تک قائم نہیں ہوا ہے۔ کہاں پر رکاوٹیں پیش آرہی ہیں، کون اس کے ذمہ دار ہیں، اس کا آج تک کچھ پتہ نہیں چلا ہے۔ وزیراقلیتی بہبود، وزیرداخلہ، حکومت کے مشیر برائے اقلیت ٹی آر ایس کے منتخب و نامزد اقلیتی نمائندے کیا کررہے ہیں کیا ان کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ چیف منسٹر کو ان کے وعدے یاد دلائے یا مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی سے انہیں واقف کرائے۔ چیف منسٹر ریاست کے سربراہ ہیں انہیں تمام مذاہب اور طبقات کی ترقی اور بہبود کے اقدامات کرنا ہے۔ ریاست کے مختلف مسائل اور امور پر پرگتی بھون میں عہدیداروں کا اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا جاتا ہے مگر اقلیتوں کے مسائل ان سے کئے گئے وعدوں اور اقلیتوں کیلئے نئی اسکیمات متعارف کرانے کا جائزہ لینے کیلئے کیوں اجلاس طلب نہیں کیا جارہا ہے۔ن
ریاست کے ہر طبقہ کیلئے کوئی نہ کوئی فلاحی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے۔ اقلیتوں کیلئے نئی اسکیمات متعارف کرانا تو دور جو اسکیمات پہلے سے موجود ہیں ان کیلئے فنڈز کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہیں جس سے ساری اسکیمات ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں۔ بی جے پی کے خلاف چند جملے ادا کردینا کافی نہیں ہے بلکہ اقلیتوں کی ترقی اور بہبود کیلئے ٹھوس عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ن