ٹپہ چبوترہ پولیس کی کارروائی پر شدید اعتراض، محکمہ جاتی اقدامات کرنے پولیس کمشنر کو ہدایت
حیدرآباد ۔ /23 جولائی (سیاست نیوز) پولیس کی جانب سے غیرت مند مسلم نوجوانوں کو پھانسنے کیلئے شروع کی جانے والی مہم پر شدید اعتراض کرتے ہوئے ریاستی وزیر داخلہ جناب محمد محمود علی نے کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر انجنی کمار کو ہدایت دی کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں پر فوری روک لگادے اور ایسا کرنے والے ملازمین کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی پر غور کرے ۔ جناب محمد محمود علی نے سیاست نیوز کو بتایا کہ انہوں نے پولیس کمشنر کو واضح ہدایات جاری کردی ہے کیونکہ پولیس اس طرح کی حرکتوں سے شہریوں میں بالخصوص مسلمانوں میں بے چینی پھیلانے کا سبب بن رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی وزیر داخلہ نے ٹپہ چبوترہ پولیس کی کارروائی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر پولیس سے رابطہ قائم کیا اور کہا کہ جس طرح کے واقعات کیلئے پولیس نے یہ مہم چلانے کا دعویٰ کیا ہے ایسے واقعات روزانہ کی اساس پر پیش نہیں آتے ۔ اسی لئے پولیس کو روزانہ پیش آنے والے جرائم کے واقعات کی روک تھام پر توجہ دینی چاہئیے ۔ کمشنر پولیس مسٹر انجنی کمار نے وزیر داخلہ کو وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی طبقہ کی لڑکیوں اور غیرمسلم نوجوان لڑکوں کے ساتھ پائے جانے والے بعض جوڑوں کو آصف نگر اور دیگر علاقوں میں عوام کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجہ میں شی ٹیم نے خصوصی آپریشن کے تحت اس قسم کے واقعات کی روک تھام کیلئے خصوصی کارروائی کی تھی ۔ کمشنر پولیس نے وزیر داخلہ کو یہ بتایا کہ وہ اس کا جائزہ لے رہے ہیں
جس پر جناب محمد محمود علی نے کہا کہ کارروائی خواہ کسی بھی شعبہ کی جانب سے کی گئی ہو اسے محکمہ پولیس کی کارروائی ہی قرار دیا جائے گا اور مستقبل میں اس طرح کی کسی بھی کارروائی کو حکومت برداشت نہیں کرے گی ۔ بعض اکا دکا واقعات کی بنیاد پر نوجوانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی سے ماحول بگڑنے کا اندیشہ ہے اور پولیس اس طرح کی کارروائیوں سے احتیاط کرے ۔ واضح رہے کہ علاقہ ٹپہ چبوترہ اور آصف نگر میں شی ٹیم اور مقامی پولیس کی جانب سے پولیس کانسٹبلس برقعہ میں ملبوس اور تلک لگاکر جوڑوں کی شکل میں علاقہ میں گھومتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو مشتعل کرتے ہوئے پائے گئے تھے اور ان جوڑوں کے گھومنے پر اعتراض کرنے والے غیرت مند نوجوانوں اور 60 سالہ معمر شخص کو پولیس نے حراست میں لیکر مچلکہ پابند کرنے کے بعد انہیں رہا کردیا تھا ۔ اس کارروائی کے خلاف مستعدپورہ کے مقامی افراد نے ٹپہ چبوترہ پولیس اسٹیشن پر زبردست احتجاج کیا تھا جس کے نتیجہ میں پولیس پریشان ہوگئی تھی ۔