پروفیسر اپوروانند
ہمارے ملک کی چار ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقہ میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے جو نتائج ائے خاص طور پر ریاست مغربی بنگال کے نتائج نے تو یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ کیا ووٹ اب ہر شہری کا حق نہیں رہا؟ کیا جان بوجھ کر ایک سازش کے تحت ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کو حق رائے دہی سے محروم تو نہیں کیا جارہا ہے (ایس آئی آر کے نام پر ناموں کو حذف کرکے) مذکورہ پانچ ریاستوں میں لاکھوں رائے دہندوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم رکھا گیا جو یقینا جمہوریت کے لئے ایک بڑے خطرہ کی نشانی ہے۔ ان انتخابات کا اگر ہم جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان انتخابات میں Universal Adult Frenchise کو بری طرح وقف کردیاگیا ہے۔ اس ضمن میں مغربی بنگال کی مثال ہمارے سامنے ہیں جہاں لاکھوں ووٹروں کو ان کے حق راء دہی سے محروم کردیا گیا۔ اس ضمن میں پی پربھاکر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا خوب لکھا ہیکہ اگر مغربی بنگال کے 28 لاکھ رائے دہندوں سے ان کے حق رائے دہی کا حق چھین لیا جانا ہمارے لئے تشویش کا باعث نہیں ہے تو پھر ہمیں اپنے ملک کو ایک جمہوری ملک قرار دینا چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ جمہوریت کی یہ علامت ہوتی ہے کہ اس میں کسی کو بھی اس کے حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اکثر مبصرین و تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر 28 لاکھ رائے ہندوں کو مغربی بنگال میں حق رائے دہی کے استعمال کی اجازت دی جاتی تو نتائج بالکل مختلف ہوتے لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا اب ہندوستانیوں کو دو حصوں میں بانٹ دیا جائے گا۔ ایک حصہ وہ جسے حق رائے دہی دیا جائے گا اور دوسرا وہ حصہ جنہیں حق رائے دہی سے محروم کردیا جائے گا؟ اب یہ بھی سوال پیدا ہو رہا ہے کہ حق رائے دہی جسے ہم اپنا بنیادی حق قرار دیتے ہیں کیا وہ ہندوستانی عوام کا بنیادی حق نہیں رہا بلکہ سرکاری الیکشن کمیشن کی جانب سے طئے کردہ منطقی عمل کے تحت دیا جانے والا ایک تحفہ ہوگا؟ اگر ہم مغربی بنگال کی بات کرتے ہیں تو وہاں الیکشن سے پہلے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بی جے پی کے لئے زائد از 91 لاکھ (بی جے پی مخالف) رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیتے تھے حد تو یہ ہیکہ ان 91 لاکھ رائے دہندوں میں سے 34 لاکھ رائے دہندے جب اپنا نام فہرست رائے دہندگان میں شامل کروانے کے لئے سپریم کورٹ گئے تب عدالت عظمیٰ نے ان سے صاف طور پر کہا کہ ان انتخابات میں ان کا ووٹ ڈالنا ضروری نہیں ہے۔ آپ کو بتادیں کہ ممتابنرجی کو بی جے پی کے سویندوا دھیکاری نے بھوانی پور میں 15 ہزار ووٹوں سے شکست دی جبکہ حقیقت یہ ہیکہ حلقہ اسمبلی بھوانی پور میں ایک ہزار یا دو ہزار نہیں بلکہ 47 ہزار رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے نکال دیئے گئے۔ ان حالات میں اگر ممتابنرجی ان 47 ہزار لوگوں کو انتخابی عمل میں شامل نہ کرنے پر انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرتی تو شائد وہ ان کی اخلاخی فتح ہوتی۔ آپ کو یہ بتانا بھی ضروری ہیکہ مغربی بنگال میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان جو ووٹوں کا فرق ہے وہ صرف 13 لاکھ کا فرق ہے جبکہ 27 لاکھ رائے دہندوں کو حق رائے دہی سے محروم رکھا گیا ہے۔ اگر وہ 27 لاکھ رائے دہندے رائے دہی میں حصہ لیتے تو کیا نتائج برآمد ہوتے اسے سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہیکہ ترنمول کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ان رائے دہندوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کھڑے نہیں ہوتے جن کے ساتھ یقینا الیکشن کمیشن آف انڈیا اور ملک کی سب سے بڑی عدالت عدالت عظمیٰ نے ناانصافی کی تھی اور دیکھا جائے تو حقیقت میں یہ جمہوریت میں کسی کے ساتھ کی جانے والی سب سے بڑی ناانصافی تھی حالانکہ بی جے پی مخالف جماعتیں یہ کہہ سکتی تھیں کہ جب تک ان 27 لاکھ رائے دہندوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق نہیں ملتا وہ بھی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اور سیاسی جماعتوں کا یہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اب چلتے ہیں آسام کی طرف، آسام میں انتخابی حلقوں کی حد بندی اس انداز میں کی گئی کہ مسلمانوں کے ووٹوں کی اہمیت مجموعی طور پر انتخابی نتائج کے لئے ان کی تعداد کے مقابلہ بہت کم ہو جائے یعنی جن حلقوں کے نتائج پر وہ اثرانداز ہوسکتے تھے اب وہ ان کے مقابلہ میں بہت کم حلقوں تک محدود ہوگئے ہیں۔ ان حلقوں کی حد بندی اس طرح کی گئی ہے کہ بی جے پی مخالف رائے دہندوں کو چند حلقوں تک محدود کردیا گیا ہے جبکہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے رائے دہندوں کو ہشیاری سے وسیع علاقوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ صرف مسلمانوں کو ہی حق رائے دہی سے محروم کیا جائے گا تو وسیع پیمانے پر کوئی مخالفت نہیں ہوگی۔ اگر جہاں مسلمانوں کو بالکلیہ حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جاسکے گا تو وہاں انتخابی حلقوں کی حد بندی اس طرح کی جائے گی کہ وہ پوری ریاست کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکیں گے اور وہ چند اسمبلی یا پارلیمانی حلقوں تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ سال 2026 کے اسمبلی انتخابات میں مغربی بنگال اور آسام میں جو تجزیہ کیا گیا ہے وہ ساورکر اور گولوالکر کے ہدف کی تکمیل کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ ایک ایسا ہندوستان جو ہندو مفادات خود کو مسلمانوں کے مفادات سے الگ کرلیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہیکہ مسلمان جسمانی طور پر زندہ رہیں گے لیکن سیاسی طور پر بے جان کر دیئے جائیں گے۔ انتخابی عمل میں ان کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی اور بادشاہ گر کے کردار کو مسلمانوں سے جڑا جاتا رہا ہے وہ بھی رجحان ختم ہو جائے گا۔