مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کا خصوصی حق حاصل

,

   

اقوام متحدہ: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے ہفتہ کے روز ایک مشترکہ قرارداد منظور کی جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ کے اندر نماز ادا کرنے کا خصوصی حق ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس ہفتے الاقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں کے خلاف اسرائیلی تشدد پر غور کے لیے ایک ہنگامی اجلاس بلایا۔ بند کمرے کا اجلاس متحدہ عرب امارات، کونسل میں عرب لیگ کے نمائندے اور چین نے بلایا تھا ۔او آئی سی کی قرارداد کو جدہ میں اس کی ایگزیکٹو کونسل کے ایک غیر معمولی اجلاس میں منظور کیا اور نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں پیش کیا گیا اس قراداد میں فلسطینی کاز کی مرکزیت کی تصدیق کی، جس میں القدس شریف اور اس کے مقدسات امت مسلمہ کے دل ہیں۔ قرارداد میں مقبوضہ مشرقی القدس کے عرب اور اسلامی تشخص کی بھی توثیق کی گئی جو کہ ریاست فلسطین کے دارالحکومت ہے۔قرارداد میں اسرائیلی قابض افواج اور دہشت گرد آباد کاروں کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران مسجد اقصیٰ پر بار بار دھاوا بول کر خطرناک اضافہ کی مذمت کی گئی۔ اس نے نوٹ کیا کہ اس کشیدگی کا اختتام ‘‘14 رمضان کی رات کو نمازیوں اور اس کے صحنوں میں نمازیوں اور عبادات کی ادائیگی کے دوران تعینات افراد پر ظالمانہ وحشیانہ حملے میں ہوا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔دوحہ میں قطر نے اعلان کیا کہ اس نے اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی شروع کر دی ہے۔
اسرائیلی پولیس کا پھر مسجد اقصیٰ پر دھاوا، حالات کشیدہ
یروشلم : گزشتہ ہفتے اسرائیلی پولیس کی جانب سے نمازیوں پر حملے کے بعد اس کے ارکان نے اتوار کو ایک مرتبہ پھر مسجد اقصی کے صحنوں اور احاطوں پر دھاوا بول دیا۔ یہودی تہوار ’’ عید الفصح‘‘ کے چوتھے دن یہودی آباد کاروں کو سخت حفاظتی انتظامات میں زبردستی مسجد اقصی کے احاطے میں داخل کرایا گیا۔ اس حملے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔دراندازی کرنے والوں نے گروپوں کی شکل میں قبلہ اول پر دھاوا بولا اور اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری ان کی حفاظت کرتی رہی۔ القدس کے قدیم شہری علاقے میں شدید تناؤ کی کیفیت میں بھی یہودیوں نے مسجد اقصی کی بے حرمتی کی اور وہاں پر اپنی رسومات ادا کیں۔دوسری طرف فلسطینی ایوان صدر کے سرکاری ترجمان نبیل ابو ردینہ نیکہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے خلاف مسلسل اسرائیلی اشتعال انگیزی ناقابل قبول ہے۔ اسرائیلی جارحیت مسجد اقصی کے صحن کو میدان جنگ میں تبدیل کر دے گی اور صورتحال سنگین ہو جائے گی۔ابو رودینہ نے مزید کہا کہ رمضان کے مہینے میں مقدس مقامات اور ان میں عبادت گزاروں کے خلاف روزانہ حملے قابل مذمت اقدامات اور ناقابل قبول ہیں۔اتوار کے دن اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصی کا تقدس پھر پامال کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز صہیونی فورسز نے مسجد اقصی میں داخل ہوکر فلسطینی نمازیوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور متعدد فلسطینیوں کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔ اسرائیل کی اس جارحیت کی بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی گئی۔