مسلمانوں کو چار فیصد تحفظات سے محروم کرنے کی سازش

   


بی جے پی کا تحفظات کو سرے سے ختم کرنے ایڑی چوٹی کا زور
حیدرآباد۔ 14 اکتوبر (سیاست نیوز) ریاست کی مسلم آبادی کو راست فائدہ پہنچانے والے 4 فیصد تحفظات بھی اب خطرہ میں پڑ گئے ہیں۔ ان تحفظات کے سبب پچھڑے ہوئے طبقات سے بھی کم تر معاشی اور تعلیمی و سیاسی طور پر پسماندہ مسلمانوں کو کچھ حد تک راحت حاصل ہو رہی ہے جن اداروں میں داخلہ کا خیال بھی اپنے دل و دماغ میں لانا مشکل تھا اور ہر ناممکنات میں تصور کیا جاتا تھا۔ اب ان اداروں میں مسلمان اپنا لوہا منوارہے ہیں حالانکہ مسلمانوں کی معاشی تعلیمی اور سماجی پسماندگی کا ذکر خود سرکاری کمیٹیوں نے کیا اور اس بات کا اقرار بھی کیا جاتا رہا لیکن اب ان چار فیصد تحفظات کو ختم کرنے کی انتھک کوششیں کی جارہی ہیں اور بی جے پی ان تحفظات کو سرسے ختم کروانے کے درپر پہنچ گئی ہے حالانکہ یہ فیصد تحفظات تمام مسلم برادری پر عائد نہیں ہوتے بلکہ ان میں زمرے بنایئے گئے باوجود اس کے صرف مسلمانوں کے فوائد ختم کرنے کے مقصد سے مسئلہ کو سپریم کورٹ تک پہنچا دیا گیا۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس حکومت نے آبادی کے لحاظ سے تحفظات کا وعدہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کا اعلان کیا لیکن عملی اقدامات آج تک نہیں کئے گئے اور نہ ہی موجودہ 4 فیصد کو بچانے کے لئے کوئی سرکاری پہل جاری ہے۔ جبکہ ایک سونامی کی طرح ریاست میں سرکاری ملازمتوں کے تقررات کے لئے اقدامات جاری ہیں۔ ریاست میں ہونہار مسلم نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم نوجوان جو سرکاری ملازمتوں میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اپنی خدمات کو قوم و ملت پر صرف کرتے ہوئے ملک کی تعمیر میں اپنا رول ادا کرنے کے لئے بے چین ہیں۔ ریاست میں مسلمانوں کو دیئے گئے چار فیصد تحفظات بی سی (ای) زمرے کے تحت عائد ہوتے ہیں۔ ان تحفظات کے حصول سے مسلمانوں میں ان تحفظات کے ذریعہ فائدہ حاصل کرنے والے خاندانوں میں کچھ حد تک خوشحالی آتی ہے جو اب بی جے پی کو کھٹکنے لگی ہے اور کسی نہ کسی وجہ سے تحفظات کو ختم کروانے کے لئے بی جے پی بے چین ہے۔ ان تحفظات سے تعلیمی میدان کے علاوہ روزگار اور سیاسی سطح پر فائدہ حاصل ہوا ہے۔ع