معرض التوا میں پڑے ہوئے پراجیکٹوں کی تکمیل کا امکان

   

حکومت کی جانب سے رواں ہفتہ رئیل اسٹیٹ کیلئے ریلیف پیکیج کی امید
نئی دہلی۔28 اگست (سیاست ڈاٹ کام) معاشی سست روی سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کا گزشتہ ہفتہ اعلان کرنے کے بعد وزیر خزانہ نرمسلا سیتارامن سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ رئیل اسٹیٹ سے متعلق بعض اعلانات کریں گی۔ بعض ذرائع نے بتایا کہ آئندہ اتوار کو وزیر خزانہ نرملا سیتارامن اور رئیل اسٹیٹ کی بڑی کمپنیوں کے ذمہ داروں کا جو اجلاس منعقد ہوگا اس میں ملک کی رئیل اسٹیٹ کی مارکٹ کی طلب میں اضافے کے طریقوں پر غور و خوص کیا جائے گا۔ گزشتہ جمعہ کو سیتا رمن نے کہا تھا کہ جو ہائوزنگ پراجیکٹ معرض التوا میں پڑے ہوئے ہیں حکومت ان کی نکاسی کے لیے رواں ہفتہ بعض اقدامات کرے گی۔ انہوں نے مکانات کی خرید و فروخت کے لیے مالیہ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو قرضہ جاتی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ایچ ایف سیز کے قرضہ جات کو 20 ہزار کروڑ روپیوں سے بڑھاکر 30 ہزار کروڑ کردینے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ قریں قیاس ہے کہ حکومت قابل خرید امکنہ کی تعریف و تصریح بھی بدل دے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ نامکمل ہائوزنگ پراجیکٹ کی تکمیل عمل میں آسکے۔ اس کے علاوہ نئے ہائوزنگ پراجیکٹ شروع کرنے والوں کے لیے بینک کے قرضوں کے حصول کے مسئلہ کو بھی حل کیا جائے گا۔ کیوں کہ بینک ہائوزنگ پراجیکٹوں کے لیے قرض دینے سے گریز کرتے ہیں اس سے بھی بعض تبدیلیاں واقع ہوں گی۔ ہائوزنگ پراجیکٹوں کے ذمہ دار اور قرضوں کے مصائب میں گرفتار خریداروں نے حکومت کو یہ تجویز پیش کی ہے کہ معرض التوا میں پڑے ہوئے پراجیکٹوں کی تکمیل کے لیے حکومت علیحدہ رقم مختص کرے۔ حال ہی میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو اس وقت زبردست دھکا پہنچا جب نیشنل ہائوزنگ بینک نے حال ہی میں تعمیرات امکنہ کے لیے قرض فراہم کرنے والے اداروں کے ضمنی کمپنیوں کو فنڈ فراہم کرنے سے احتراز کرنے کے لیے کہا۔ نو تعمیر شدہ مکانات کے خریداروں کی اسوسی ایشن فورم فار پیوپلس کولکٹیو ایفرٹس (FPCE) نے سیتارم رمن کے نام روانہ کردہ اپنے ایک مکتوب میں معرض التوا میں پڑے ہوئے تعمیراتی پراجیکٹوں کے لیے کم سے کم 10 ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے پر زور دیا۔