مفت پارکنگ کے نام پر سرکاری آمدنی تو بند ‘ خانگی وصولی اب بھی جاری

   

خود سرکاری محکمہ جات اور دواخانوں وغیرہ میں پارکنگ فیس وصولی کا سلسلہ جاری ۔ حکومت کے احکام بالکلیہ بے اثر

حیدرآباد۔14جنوری(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے مفت پارکنگ کے اعلان اور جی او کی اجرائی کے ذریعہ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے کسی بھی مقام پر پارکنگ کی فیس وصول نہ کرنے احکامات جاری کئے گئے تھے لیکن خود سرکاری محکمہ جات کے علاوہ دفاتر و سرکاری مقامات پر باضابطہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرکے پارکنگ کی فیس وصول کی جا رہی ہے اور دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ اگر کوئی شکایت کرنا چاہے تو کرسکتا ہے لیکن پارکنگ فیس ادا کرنی ہوگی۔دونوں شہروں کے مختلف مقامات بالخصوص عثمانیہ دواخانہ ‘ نمس ہاسپٹل کے علاوہ باغ عامہ میں پارکنگ کیلئے فیس وصولی کی شکایات کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جار ہی ہے۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے ریاست میں پارکنگ فیس کو برخواست کرکے مختلف زمرے تیار کئے گئے تھے لیکن ان پر عمل کے معاملہ میں لاپرواہی کے سبب بیشتر مقامات پر غیر مجاز پارکنگ فیس کی وصولی معمول بن چکی ہے ۔ پارکنگ فیس وصول کرنے والوں کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہونے کے سبب ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جار ہی ہے۔ شہر میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے پارکنگ کے مقامات کا ہراج کرکے آمدنی حاصل کی جاتی تھی لیکن مفت پارکنگ کی سہولت فراہم کرنے اقدامات کے نام پر بلدیہ کی اس آمدنی کو ختم کردیا گیا لیکن بیشتر مقامات پر اب بھی وہی کنٹراکٹر جو پارکنگ ٹکٹ جاری کرکے پیسے وصول کرتے تھے پارکنگ فیس وصول کر رہے ہیں اور ان سے کوئی بازپرس کرنے والا نہیں ہے۔شہر میں خانگی شاپنگ مالس کے علاوہ تفریحی مقامات پر پارکنگ فیس کی وصولی کے خاتمہ کیلئے محکمہ بلدی نظم ونسق نے وسیع تر کاروائی کرکے انہیں سرکاری احکامات کا پابند بنانے کے اقدامات کئے لیکن سرکاری مقامات و دفاتر پر غیر مجاز طور پر وصول کی جانے والی پارکنگ فیس کو روکنے کسی بھی طرح کے اقدامات نہ کئے جانے سے عوام کو شدید مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ان کے علاوہ نکلس روڈ پر بھی مختلف مقامات پر پارکنگ کی غیر مجاز فیس کی وصولی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ م