ملٹری علاقہ میں چیک ڈیم کو نکال دیا جائے گا

   

لوکل ملٹری اتھاریٹی کا ریاستی حکومت سے تعاون کرنے سے اتفاق

حیدرآباد ۔ 14 مئی (سیاست نیوز) ٹولی چوکی علاقہ میں بلکاپور نالہ پر موجود چیک ڈیم کو نکال دیا جائے گا۔ اس چیک ڈیم کی وجہ سے ٹولی چوکی، ندیم نگر، نظام کالونی اور الحسنات کالونی میں بارش ہونے پر سیلاب کی صورتحال پیدا ہورہی ہے کیونکہ یہ ڈیم بارش کے پانی کے بلکاپور نالہ میں آسان بہاؤ کو روکتا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) اور لوکل ملٹری اتھاریٹی (ایل ایم اے) کے درمیان اس چیک ڈیم کو نکال دینے کیلئے ایک دوستانہ حل طئے پایا ہے۔ وزیربلدی نظم و نسق کے ٹی راماراؤ اور فوجی عہدیداروں بشمول جنرل آفیسر کمانڈنگ، دکشھن بھارت ایریا، لفٹننٹ جنرل اے ارون کے درمیان ہوئی بات چیت کے بعد ایل ایم اے نے اس چیک ڈیم کو نکالنے ریاستی حکومت کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا ہے ۔اس کے بعد جی ایچ ایم سی کے سینئر عہدیداروں اور ایل ایم اے نے چند دن قبل ملٹری علاقہ سے گذارنے والے 1.710 کیلو میٹر طویل بلکاپور نالہ اور چیک ڈیم کا معائنہ کیا تاکہ نالہ میں بارش کے پانی کے آسان بہاؤ کیلئے اس چیک ڈیم کو کس طرح نکالا جاسکتا ہے اس کا جائزہ لیا جاسکے۔ اس معائنہ کے بعد جی ایچ ایم سی کمشنر ڈی ایس لوکیش کمار نے جنرل آفیسر کمانڈنگ، تلنگانہ اینڈ آندھرا سب ایریا، سکندرآباد کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے چیک ڈیم کو نکالنے کی رسمی اجازت طلب کی جو ملٹری ایریا میں ہے اور انٹر سیپشن اینڈ ڈائیورشن (I&D) اسٹرکچر تعمیر کرنے اور سید نگر ایکمینار مسجد کے پاس ملٹری علاقہ میں بلکاپور نالہ چیک ڈیم تا ملٹری آوٹ لیٹ 10,00mm قطر کے آر سی سی NP3 سیوریج پائپ لائن بچھانے کی اجازت طلب کی۔ ان کاموں کو جی ایچ ایم سی فنڈس سے انجام دیا جائے گا۔ بلکاپور نالہ کی جملہ لمبائی تقریباً 8.250 کیلو میٹر ہے اور ملٹری ایریا میں اس کی لمبائی تقریباً 1.710 کیلو میٹر ہے۔ بلکاپور نالہ، ملکم چیرو سے شروع ہوتا ہے اور ویراٹ نگر، حکیم پیٹ میں کوتہ چیرو، ملٹری ایریا (مہدی پٹنم گیریسن)، احمد نگر، پنشن آفس اور چنتل بستی سے گذرتے ہوئے حسین ساگر جھیل میں جا ملتا ہے۔