ملک خطرہ میں ہے ، مذہبی جنون کو فروغ۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کی حوصلہ افزائی

,

   

تلنگانہ پہلے آندھرائی حکمرانوں اور اب مرکزکے تعصب کا شکار، تقسیم ریاست کے وعدے فراموش۔ یوم تاسیس تقریب سے چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد۔/2 جون، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں آندھرائی حکمرانوں نے تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا، علحدہ تلنگانہ تشکیل پانے کے بعد تلنگانہ سے مرکزی حکومت سوتیلا سلوک کررہی ہے۔ تلنگانہ کے یوم تاسیس کے موقع پر باغ عامہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ کے سی آر نے کہا کہ ترقی کی راہ پر گامزن تلنگانہ کے ساتھ تعاون کی بجائے مرکزی حکومت حوصلہ شکنی کررہی ہے ۔ مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے پہلے سے مرکز ی حکومت تلنگانہ کے ساتھ نا انصافی کررہی ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کا جشن منانے سے قبل کھمم کے 7 منڈلوں کو آندھرا پردیش میں ضم کردیا گیا جس سے تلنگانہ لوئیر سیلر برقی پراجکٹ سے محروم ہوگیا۔ مرکزکے فیصلہ کے خلاف تلنگانہ بند منظم کیا گیا، پانچ سال تک ہائی کورٹ کی تقسیم نہیں کی گئی، تلنگانہ کیلئے علحدہ ہائی کورٹ قائم کرنے کے بعد ضرورت کے مطابق اسٹاف، فنڈز اور عمارتوں کا انتظام تھا جس کی سپریم کے چیف جسٹس نے بھی ستائش کی۔ نیتی آیوگ نے مشن بھگیرتا، مشن کاکتیہ اسکیمات کی ستائش کی اور 24 ہزار کروڑ روپئے تلنگانہ کو فراہم کرنے مرکز سے سفارش کی جس کو مرکز نے نظرانداز کردیا۔ کے سی آر نے کہا کہ انہوں نے خود وزیر اعظم سے ملاقات کرکے نئی ریاست کیلئے زیادہ فنڈز کی نمائندگی کی جس کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔ کورنا وباء سے سارا ملک معاشی بحران کا شکار رہا ایسے موقع پر بھی مرکز نے ریاستوں سے کوئی تعاون نہیں کیا۔ جو فنڈز وصول طلب ہیں ان کو جاری نہیں کیا گیا۔ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے 9 اضلاع کو پسماندہ اضلاع کی فہرست میں شامل کیا مگر فنڈز کی اجرائی میں تاخیر کی جارہی ہے۔ تقسیم آندھرا پردیش کے بل میں تلنگانہ میں قائم صنعتوں کو رعایتیں اور حوصلہ افزائی کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر اس میں مرکز نے کوئی تعاون نہیں کیا۔ بیارم اسٹیل پلانٹ، قاضی پیٹ ریلوے کوچ فیکٹری کے وعدے کو وفا نہیں کیا گیا۔ تلنگانہ میں آئی ٹی آئی آر قائم کرنے کے وعدہ کو نظر انداز کردیا گیا۔ کے سی آر نے کہا کہ اگر یہ ادارہ قائم ہوجاتا تو آئی ٹی سیکٹر میں مزید پیشرفت ہوتی اور لاکھوں نوجوانوں کو راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع ملتے ۔ اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کو نظرانداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ روس اور یوکرین جنگ کی وجہ سے تلنگانہ کے طبی طلبہ کو جو نقصان ہورہا ہے اس کی پابجائی کیلئے تلنگانہ حکومت نے مثبت رد عمل کا اظہار کرکے طلبہ کے تمام تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کا مرکز کو مکتوب روانہ کیا لیکن اس معاملہ میں بھی مرکز نے سرد مہری کا مظاہرہ کیا۔کے سی آر نے کہا کہ ریاستوں کو مرکزی حکومت کمزور کررہی ہے۔ پارلیمانی نظام و دستوری و قانونی نظام کو کمزور کیا جارہا ہے، ملک میں مذہبی جنون، فرقہ واریت کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ ملک میں ذات پات، مذہب کی سیاست سے عوام میں نفرت پھیلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے عدم تعاون کے باوجود ریاست کی ترقی و فلاحی اسکیمات ملک کیلئے مثالی ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ سماج کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے 75 سال میں جو ترقی نہیں ہوسکی وہ ٹی آر ایس کے 8 سالہ دور حکومت میں ہوئی ہے۔ تین سال میں کالیشورم پراجکٹ کو تکمیل کیا گیا۔ دلت طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے دلت بندھو اسکیم متعارف کی گئی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں انقلابی ترقی کیلئے پہلے دن سے ہی بڑے پیمانے پر اصلاحات کئے جارہے ہیں۔ آئی ٹی شعبہ میں عالمی کمپنیوں کے حیدرآباد میں دفاتر قائم ہوئے ۔ آئی ٹی شعبہ میں 7 لاکھ 78 ہزار 121 ملازمتیں فراہم ہوئیں۔ صنعتی اور آئی ٹی شعبوں میں جملہ 24 لاکھ ملازمتیں فراہم ہوئیں۔ ن