ملک سے دینی مدارس کے وجود کو ختم کردیا جا ئے

   

چیف منسٹر آسام ہیمنت بسوا کی زہر افشانی، مدارس پر سرکاری فنڈس خرچ کرنے کی مخالفت، مذہبی تعلیم گھر میں دی جائے
حیدرآباد۔23۔ مئی (سیاست نیوز) آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا شرما نے دینی مدارس کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے مدارس کے وجود کو ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔ متنازعہ بیانات کیلئے شہرت رکھنے والے چیف منسٹر آسام نے نئی دہلی میں آر ایس ایس کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لفظ مدرسہ ملک سے ختم ہوجانا چاہئے اور مسلمانوں کو مذہبی تعلیم کا گھروں میں اہتمام کرنا چاہئے ۔ ہیمنت بسوا شرما نے کہا کہ جب تک مدرسہ دماغ میں گھومتا رہے گا ، اس وقت تک بچے ڈاکٹر اور انجنیئر نہیں بن سکتے۔ اگر مدرسہ میں داخلہ سے قبل بچوں سے پوچھا جائے کہ یہاں داخلہ لینے پر وہ ڈاکٹر اور انجنیئر نہیں بن پائیں گے تو بچے مدرسہ میں ہرگز داخلہ نہیں لیںگے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس میں بچوں کا داخلہ دراصل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے کیونکہ وہاں عصری تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے۔ عصری تعلیم کے راستے بند کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ چیف منسٹر آسام نے کہا کہ بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ تعلیم گھر میں دی جائے، اسکول میں سائنس ، میاتھس اور دیگر عصری مضامین پڑھائے جائیں۔ مذہبی تعلیم دو تین گھنٹوں تک گھر میں دی جائے ، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اسکولوں میں صرف وہی تعلیم دی جائے جن سے بچے ڈاکٹر ، انجنیئر ، پروفیسر اورسائنٹسٹ بن سکتے ہیں۔ قرآن مجید کے حفظ سے مسلم بچوں میں ذہانت سے متعلق نظریہ کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر آسام نے کہا کہ ہندوستان میں سارے مسلمان ماضی میں ہندو تھے ۔ کوئی بھی مسلمان کی حیثیت سے ہندوستان میں داخل نہیں ہوا۔ ان تمام کے آباء و اجداد ہندو تھے۔ اگر قرآن مجید کے حفظ کرنے سے کوئی مسلم طالب علم میرٹ حاصل کرتا ہے تو میں اس کا سہرا اس کے ماضی کو دینا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد ہم نے محسوس کیا کہ حکومت کا پیسہ کسی خاص مذہب کی مذہبی تعلیم پر خرچ نہ کیا جائے۔ انہوں نے آسام میں حکومت کی امداد سے چلنے والے مدارس کو ختم کرنے قانون سازی کا اشارہ دیا۔ر