ملک فسطائیت کی گرفت میں ‘مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے

   

وقف ترمیمی بل سے مساجد ‘ قبرستانوںو مقابر کا وجود خطرہ میں۔ جمیعۃ العلما کا کنونشن ‘ارشد مدنی و خالد سیف اللہ رحمانی کا خطاب

نئی دہلی: ملک کے موجودہ حالات، ملک میں لاحق خطرات و کمزور ہوتی آئین کی بالادستی پر جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے کہا کہ آئین جمہوریت کی بنیاد کا پہلاپتھر، آئین کی بالادستی ختم ہوئی توجمہوریت بھی زندہ نہیں رہ سکے گی۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں ‘تحفظ آئین ہند کنونشن’ میں شرکت کیلئے آئے عوام سے خطاب میں کہی۔انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی مسلمانوں کی طویل جدوجہد اورقربانیوں کا نتیجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کی تشکیل ملک کو غلامی زنجیروں سے آزادکرانے نہیں ہوئی تھی بلکہ 1832اور1857میں علماء کے جہادکے بعدبرطانیہ اورہندوستان کے درمیان رشتوں میں جو کشیدگی آگئی تھی اس کو دورکرنے ہوئی تھی۔انہوں نے دعوی کیا کہ یہ جمعیۃعلماء ہند ہی تھی کہ جس نے ملک کی جدوجہد آزادی کے لئے کانگریس کو اپنی پالیسی بدلنے پر مجبورکیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم انگریزوں کے آگے نہیں جھکے تواب ہمیں کوئی طاقت نہیں جھکاسکتی، کیونکہ مسلمان صرف ایک اللہ کے آگے ہی اپنا سرجھکاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کو ملک میں آگ لگانے کی جھوٹ ملی ہوئی ہے مذہب کی بنیادپر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش ہورہی ہے کئی مذہبی مسائل کو ہوا دیکر فرقہ ورانہ کشیدگی اوراشتعال پیداکرنے کی منظم کوشش ہورہی ہے ، جمعیۃعلما ان حالات میں بزرگوں کے بتائے راستہ پر چل رہی ہے ، جمعیۃعلماء ہند اپنے قیام سے اب تک ان اصولوں پر گامزن ہیں جو ان کے اکابرین کا اصول رہاتھا اوریہ اصول پیارومحبت، اتحاداوریکجہتی کا اصول ہے ۔ موجودہ حالات پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج سب سے بڑاخطرہ اس سیکولردستورکو لاحق ہے جس نے ملک کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق اوراختیارات دیئے ہیں اس دستورمیں ملک کی اقلیتوں کو خصوصی اختیارات بھی دیئے گئے ہیں مگر اب ان اختیارات کو چھین لینے کی کوشش ہورہی ہے ، مولانا مدنی نے کہا کہ وقف ترمیمی بل ہماراآج کا بڑامسئلہ ہے جس کے ذریعہ ہماری وقف املاک کو ہڑپ لینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ آئین کا تحفظ ضروری ہے ۔ آئینی احکام کی ورزی کرکے ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو پریشان کیا جارہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں اب کوئی شبہ نہیں رہاکہ ملک پوری طرح فسطائیت کی گرفت میں ہے ایسے میں ہماری ہی نہیں ملک کے ان تمام شہریوں کی جو ملک کی آئین اورجمہوریت میں یقین رکھتے ہیں،یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کو بچانے آگے آئیں کیونکہ اگر آئین کی بالادستی ختم ہوئی توپھر جمہوریت بھی زندہ نہیں رہ سکے گی۔مولانامدنی نے وقف ترمیمی بل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اوقاف ہمارے آباواجدادکا ورثہ ہے اوراللہ کی ملکیت ہے مگر اب جوترمیمی بل لایاجارہاہے ہم اس کو مستردکرتے ہیں ہم ایسے کسی قانون کو تسلیم نہیں کرسکتے جس سے وقف کی صورت حال اورواقف کی منشاہی بدل جائے ۔ مولانا مدنی نے فلسطین میں جارحیت ظلم وبربریت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسرائیل امریکہ کی مددسے غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی کررہاہے اورپوری دنیاخاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ شرکاء کو مولانا مدنی نے تلقین کی کہ وہ محبت کے پیغام کو عام کریں کیونکہ ایسا کرکے ہی فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دی جاسکتی ہے ۔ جمعیۃعلما کے نائب صدرمولانا اسجدمدنی نے کنونشن کے اغراض ومقاصدپر روشنی ڈالی ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈکے صدرمولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے وقف ترمیمی بل پر کہا کہ یہ خطرناک ترمیم ہے اوراگر یہ بل منظورہوگیا توہماری مساجد، مقابر، درگاہ اورقبرستانوں کا وجودخطرہ میں پڑجائے گا/ سپریم کورٹ کے وکیل فضیل ایوبی نے ان ترمیمات کے بارے میں روشنی ڈالی جو مجوزہ بل میں کی گئی ہیں