اسراف سے بچنے حیدرآبادیوں سے اپیل، ماہرین کو لاک ڈاؤن جیسی پابندیوں کا اندیشہ ، شاہ خرچی آئندہ کیلئے خطرناک
حیدرآباد ۔18۔ مئی (سیاست نیوز) ملک کی معاشی صورتحال کے بارے میں مرکز کی خاموشی اور وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام سے بچت سے متعلق گائیڈ لائینس کی اجرائی میں ملک میں نئی بحث چھیڑدی ہے ۔ فروری میں مغربی ایشیاء میں ایران کے ساتھ اسرائیل اور امریکہ کی جنگ کے آغاز کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ صرف ہندوستان ہی نہیں دیگر ممالک کی معیشت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکی۔ یہ الگ بات ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اور خوشحال معیشت کے حامل ممالک نے عوام پر زائد بوجھ عائد نہیں کیا۔ جہاں تک پٹرول کی قیمت میں اضافہ کا معاملہ ہے ، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ہندوستان کا شمار مکمل طور پر خوشحال معیشت میں نہیں ہوتا ، لہذا تیل کی قیمتوں میں معمول فرق بھی عام آدمی اور خاص طور پر متوسط طبقات کے لئے اضافی بوجھ کا باعث بنتا ہے ۔ گزشتہ 10 برسوں میں مرکزی حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھائے اور جب پانی سر سے اونچا ہوگیا ، اس وقت وزیراعظم نریندر مودی کو بچت سے متعلق گائیڈ لائینس جاری کرنے کا خیال آیا۔ اسے محض اتفاق کہا جائے یا طئے شدہ پروگرام کے وزیراعظم نے قوم سے بچت کی اپیل حیدرآباد سے کی۔ پریڈ گراؤنڈ کے جلسہ عام میں وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پٹرول اور ڈیزل ، خوردنی تیل اور گیس کا استعمال کم کریں۔ ایک سال تک سونے کی خریدی نہ کی جائے اور بیرونی دوروں سے گریز کیا جائے۔ وزیراعظم نے پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کے ذریعہ ایندھن کی بچت کا مشورہ دیا۔ انہوں نے فصلوںکی تیاری کیلئے کیمیکلس اور فرٹیلائیزرس کے استعمال میں کمی کا بھی مشورہ دیا۔ وزیراعظم کے تمام مشوروں کا خلاصہ صرف یہی ہے کہ ملک کی معیشت ٹھیک نہیں، لہذا بچت کرتے ہوئے آنے والے برسوں کے چیلنجس سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں۔ وزیراعظم کی حیدرآباد سے قوم کے نام اپیل کو بعض سیاسی مبصرین حیدرآباد میں اسراف سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کا حیدرآباد سے اپیل کرنے کا مقصد بھلے ہی کچھ ہو لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شادی بیاہ اور دیگر تقاریب کے موقع پر اسراف کے معاملہ میں حیدرآباد اور عموماً تلنگانہ ریاست ملک میں سرفہرست ہے۔ اسراف کے معاملہ میں اکثریتی اور اقلیتی طبقات دونوں ہی برابر کے شریک ہیں۔ خوشی کا کوئی موقع ہو اظہار کیلئے لاکھوں روپئے کا خرچ معمول بن چکا ہے اور شاہ خرچی کے ذریعہ سماج میں اپنا مقام بلند کرنے کی احمقانہ کوشش کی جاتی ہے۔ دولت کے مظاہرہ سے بھلے ہی دولتمند طبقات کی واہ واہی حاصل ہوتی ہے لیکن غریب اور محروم طبقات میں پسماندگی کے احساس میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اسراف سے سختی سے منع کیا ہے۔ وزیراعظم اور وزیر فینانس بھلے ہی معیشت کی صورتحال کے بارے میں عوام کو حقائق سے بے خبر رکھیں لیکن معاشی ماہرین نے آنے والے دنوں میں فینانشیل ایمرجنسی جیسی صورتحال کا اندیشہ ظاہر کیا ہے ۔ نریندر مودی نے ورک فرم ہوم اور گاڑیوں کے استعمال میں کمی کا مشورہ دیتے ہوئے عقلمند کے لئے اشارہ کافی کی طرح یہ واضح کردیا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کی سطح پر تحدیدات اور پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ جس طرح لاک ڈاؤن میں عوام کو گھروں تک محدود کرتے ہوئے ورک فرم ہوم کے ذریعہ دفتری امور کی تکمیل کی گئی ، ٹھیک اسی طرح فینانشیل ایمرجنسی کی صورت میں عوام پر تحدیدات عائد کی جاسکتی ہیں۔ بعض بی جے پی ریاستوں میں سرکاری سطح پر گاڑیوں کے استعمال میں کمی اور ہفتہ میں دو یا تین دن ورک فرم ہوم کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم سے لے کر ریاستوں کی وزراء نے اپنے قافلہ کی گاڑیوں کی تعداد میں کمی کردی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پڑوسی ملک پاکستان نے شادی بیاہ کی تقاریب میں مہمانوں کی تعداد پر پابندی عائد کرتے ہوئے عوام کو اسراف سے روکنے کی کوشش کی ہے۔ ملک کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے جہاندیدہ افراد نے مسلمانوں کو اسراف سے بچنے کی تاکید کی ہے تاکہ آنے والے دنوں میں ابتر حالات سے بچا جاسکے۔ حیدرآباد میں تقاریب کے موقع پر دولت کے مظاہرہ سے کون واقف نہیں۔ بہتر یہی ہوگا کہ شادی بیاہ اور دیگر تقاریب کو شریعت کے عین تقاضوں کے مطابق مکمل کرتے ہوئے اسراف سے بچیں تاکہ آنے والی نسلوں کو بچت کی ترغیب ہو۔ دولت کے بے دریغ استعمال سے وقتی طور پر نفس کی تسکین ہوسکتی ہے لیکن معاشی چیلنجس کے سامنا کرنے کی صورت میں سوائے افسوس کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ متوسط اور دولتمند گھرانوں کو موجودہ صورتحال میں اپنے اخراجات کا محاسبہ کرتے ہوئے اپنے گھروں اور خاندانوں میں مالیاتی ڈسپلن کو نافذ کرنا ہوگا اور یہی چیز مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگی۔1/k