حکومت کی اسکیمات کے فوائد محدود ، فصلوں کو نقصانات اور قرض اہم وجوہات
حیدرآباد ۔23 ۔ جولائی (سیاست نیوز) موسمی تبدیلی اور فصلوں کو نقصانات کے نتیجہ میں ملک میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے کسانوں اور زرعی شعبہ کی بھلائی کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن حکومت کی اسکیمات کے فوائد حقیقی کسانوں تک نہیں پہنچ پارہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہے کے دوران ملک میں ہر سال 10,000 سے زائد کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں ہر سال معمولی فرق دیکھا گیا۔ 2015 میں 12602 کسانوں نے خودکشی کی تھی۔ اس کے بعد کے برسوں میں خودکشی کرنے والے کسانوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے اور 2024 میں 10546 کسانوں کی خودکشی کے واقعات منظر عام پر آئے۔ زرعی شعبہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی دباؤ ، فصلوں کو نقصان ، قرض اور غیر متوقع موسمی حالات کے نتیجہ میں کسان ہر سال بھاری نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں ۔ حکومتوں کی جانب سے قرض معافی کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن اسکیم سے استفادہ کیلئے سخت شرائط کے سبب چھوٹے اور متوسط کسان قرض کی ادائیگی کے موقع میں نہیں ہوتے اور فینانسرس کے بڑھتے دباؤ کے نتیجہ میں خودکشی پر مجبور ہورہے ہیں۔ قومیائے ہوئے بینکوں اور کوآپریٹیو بینکس کی جانب سے قرض کی ادائیگی کیلئے قانونی طریقہ سے دباؤ بنایا جاتا ہے۔ ہر سال 10,000 کسانوں کی خودکشی کے سرکاری اعداد و شمار پر ماہرین کو شبہات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی ایسے واقعات ہیں جو عہدیداروں کے علم میں آنے کے باوجود انہیں خودکشی کے زمرہ میں شامل نہیں کیا جاتا۔ دیہی سطح پر زرعی شعبہ کیلئے ایک مستحکم امدادی نظام اور فصلوں کے مناسب معاوضہ کو یقینی بناتے ہوئے زرعی شعبہ کو خوشحال بنایا جاسکتا ہے۔ زرعی شعبہ کو مفت برقی سربراہی کے باوجود کسانوں کے معاشی بوجھ میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ۔1/k/m/b