مخالف عوام پالیسیوں پر احتجاج کریں، محبوب نگر میں راہول گاندھی کا کارنر میٹنگ سے خطاب
محبوب نگر 28 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ملک کے قوم دشمن عناصر ہی ملک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ملک میں نفرت کا پرچار کرکے اقتدار حاصل کرنا ہی قوم دشمن عناصر کا مقصد ہے۔ ان خیالات کا اظہار راہول گاندھی نے آج شام ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے ساتھ محبوب نگر کی سرحد میں داخل ہوتے ہوئے گوپلاپورم میں ایک کارنر میٹنگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ راہول گاندھی آج ضلع نارائن پیٹ سے پلی گنڈلہ، اپناپلی، لال کوٹ چوراستہ، بنڈر پلی، لاکنڈہ، گوراکنڈہ سے ہوتے ہوئے محبوب نگر کے گوپلاپورم پہنچے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہماری اس یاترا کا مقصد نہ صرف ملک کو جوڑنا ہے بلکہ دلوں کو بھی جوڑنا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ہمارے اس عظیم ملک کو قوم دشمن عناصر کے ہاتھوں میں کمزور ہوتا ہم نہیں دیکھ سکتے۔ نفرت کا زہر پھیلاتے ہوئے ملک کو ترقی نہیں دلائی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس طویل ترین مسافت والی یاترا سے ہمارے ملک کی سیکولر بنیادیں مضبوط ہوں گی اور فرقہ پرست طاقتوں کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ یاترا کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ملک کے عوام محبت بھرا ہندوستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارا ملک امن و امان، یکجہتی اور اخوت سے مضبوط و مستحکم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے پر عوام کو مسائل اور الجھنوں میں ڈھکیلنے والی اسکیمات بشمول دھرانی پورٹل منسوخ کردیئے جائیں گے۔ کانگریس کی حکومت عوام دوست حکومت ہوگی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مخالف عوام حکومت کی پالیسیوں پر جمہوری انداز میں احتجاج کریں اور عوام دوست جماعتوں سے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج بی جے پی حکومت میں عام آدمی کا جینا کافی مشکل ہوگیا ہے۔ ملک کو معاشی تباہی کا سامنا ہے دن بہ دن بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ متحدہ طور پر فاشسٹ اور فرقہ پرست عناصر کے خلاف مقابلہ کریں۔ محبوب نگر کی سرحد میں داخل ہوتے ہی راہول گاندھی کا عوام نے زبردست استقبال کیا جو کافی دیر سے ان کا انتظار کررہے تھے۔ راہول گاندھی کے ہمراہ تلنگانہ پردیش کانگریس کے صدر اے ریونت ریڈی، اتم کمار ریڈی، محمد اظہر الدین (سابق کرکٹ کپتان)، جئے رام رمیش، ڈگ وجئے سنگھ، صدر ضلع کانگریس عبید اللہ کوتوال، پردیپ گوڑ، جی چناریڈی، سمپت کمار، جی مدھوسدھن ریڈی، ملوبھٹی، وکرمارکا کے علاوہ کئی ایک ریاستوں کے سینئر کانگریسی قائدین بھی موجود تھے۔