ملگ کے پہاڑی علاقوں میں لوہے کی کچدھات کے ذخائر موجود

   

حیدرآباد ۔ 15 ۔ مارچ : ( پی وی کنڈل راؤ ) : ملگ کے پہاڑی علاقوں اور جنگلاتی دیہاتوں میں لوہے کی کچدھات کے کافی ذخائر موجود ہیں ۔ مائننگ اینڈ جیالوجی ونگس کے حالیہ سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے ۔ جیالوجیکل سروے آف انڈیا (GSI) کے سرویز میں بھی سابق ورنگل ریجن کے موجودہ بھوپال پلی ڈسٹرکٹ میں ملگ فارسٹ بیلٹ میں لوہے کی کچدھات کی بڑی مقدار پائے جانے کا پتہ چلا ہے ۔ محکمہ کی جانب سے کئے گئے سروے میں ان ذخائر کا پتہ چلا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ یہ ذخائر ، کوئلہ ، لیٹرائیسٹ ، ڈولمائیٹ اور باکسائیٹ کے اس ریجن میں دستیاب وسائل کے علاوہ ہیں ۔ ورنگل ڈسٹرکٹ میں ملگ فارسٹ بیلٹ گذشتہ چند دہوں سے معدنیات سے بھر پور زون بنا ہوا ہے ۔ گوداوری کے طاس میں کوئلہ کے ذخائر کا پتہ چلنے کے بعد جیالوجیکل سروے آف انڈیا نے اس سے متصل علاقوں میں سروے کئے اور چونکہ معدنی ذخائر کے اس زون میں دیگر ذخائر کی بڑی مقدار پائی جانے کے امکان کے ساتھ اس سلسلہ میں سروے میں شدت پیدا کی گئی ۔ موجودہ بھوپال پلی ڈسٹرکٹ میں جی ایس آئی نے باکسائیڈ ، ڈولمائیٹ اور لیٹرائیٹ کے ساتھ ساتھ چونے کے پتھر کے ذخائر کا پتہ چلایا ۔ اس علاقہ میں تقریبا پینتیس کمپنیاں گذشتہ دس سال سے مائننگ کے کام کررہی ہیں ۔ یہاں پائے جانے والے ان ذخائر کو آندھرا پردیش میں سمنٹ یونٹس کو بھیجا جاتا ہے اور اس کے خام میٹرئیل کو قیمتی میٹرئیل سمجھا جاتا ہے ۔ جی ایس آئی کے حالیہ سروے میں اس ریجن میں مزید معدنیات ہونے کا پتہ چلا ہے اور اس میں لوہے کی کچدھات پائی گئی ۔ جیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل کے مطابق پٹی پلی تااباپور کے علاقہ میں جس میں جانی گٹالو کا احاطہ ہوتا ہے لوہے کی کچدھات کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو تقریبا 3000 ایکرس پر ہے جس کی وجہ اس علاقہ کے سیاسی قائدین یہاں زمین خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔۔