مہاراشٹرا میں پنچایت و گرام پنچایت انتخابات کے نتائج نے اپوزیشن جماعتوں کی کمزوری کو عیاں کردیا ہے ۔ ریاست کے کئی پنچایت و نگر پنچایت انتخابات میں بی جے پی نے بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے سب سے زیادہ پنچایتوں پر قبضہ جمالیا ہے ۔ اس کے علاوہ بی جے پی کی حلیف جماعتیں شیوسینا ( شنڈے ) اور این سی پی ( اجیت پوار ) گروپ نے بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے اور اس اتحاد نے نتائج کے معاملے میں کانگریس ‘ شیوسینا ادھو ٹھاکرے اور این سی پی شرد پوار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ جہاں تک اپوزیشن جماعتوںک ا سوال ہے تو اس ماعملے میں کانگریس نے بہتر مظاہرہ کیا ہے ۔ جو کانگریس ۔ شیوسینا ۔ این سی پی کا اتحاد تھا اس میں کانگریس سب سے زیادہ طاقتور رہی ہے اور شیوسینا ادھو ٹھاکرے اور این سپی شرد پوار اس سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ پنچایت و نگر پنچایت انتخابات کے نتائج کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کی صفوں میں ایک بار پھر سے قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ تمام ہی جماعتوں کو ممبئی میونسپل کارپوریشن پر قبضہ جمانے اتحاد کرنے کی ضرورت ہوگی اور مشترکہ حکمت عملی بناتے ہوئے کام کرنا ہوگا ۔ حالانکہ ابھی اس سلسلہ میں کسی بھی جماعت نے کھل کر اظہار خیال نہیں کیا ہے لیکن یہ کہا جا رہا ہے کہ در پردہ ان جماعتوں میں اس بات پر غور ہو راہ ہے کہ ممبئی کیلئے ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کی جانی چاہئے تاکہ یہاں بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کا غلبہ روکا جاسکے اور اپوزیشن اپنی ساکھ بچانے میں کامیاب ہوسکے ۔ اس سلسلہ میں شیوسینا ادھوٹھاکرے گروپ کے لیڈر سنجے راوت نے کانگریس قائد و قائد اپوزیشن راہول گاندھی کو فون کرتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحدہ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ابھی اس پر راہول گاندھی کے رد عمل کا پتہ نہیں چل سکا ہے ۔ تاہم یہ ضرور کہا جا رہا ہے کہ شیوسینا ادھو ٹھاکرے گروپ نے اس معاملے میں اپنی جانب سے پہل ضرور کردی ہے ۔
مہاراشٹرا کی جو سیاسی صورتحال ہے وہ عجیب کہی جاسکتی ہے ۔ لوک سبھا انتخابات میں انڈیا اتحاد نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اتحاد کو چاروں شانے چت کر دیا تھا ۔ چند ہی مہینوں میں اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے نے انڈیا اتحاد کو پچھاڑ کر رکھ دیا ۔ اب پنچایت و گرام پنچایت انتخابات میں بھی برسر اقتدار اتحاد کو بڑی سبقت حاصل ہوئی ہے ۔ اب اپوزیشن اتحاد کے سامنے ممبئی میونسپل کارپوریشن پر بی جے پی اور حلیفوں کو قبضہ کرنے سے روکنے کا نشانہ ہے ۔ اس معاملے میں ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا اور شرد پوار کی این سی پی زیادہ موثر کامیابی حاصل کرتی نظر نہیں آرہی ہے ۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام جماعتیں اپنی طاقت کو بکھیرنے کی بجائے ایک جٹ ہو کر مقابلہ کرنے کی کوشش کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ جو کچھ بھی اختلافات حالیہ وقتوں میں پیدا ہوئے پیں ان پر قابو پاتے ہوئے مشترکہ اور متحدہ مقابلہ کرنے کی حکمت عملی تیار کریں۔ ممبئی کے ووٹرس کے سامنے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوں ۔ ان کے سامنے اتحاد کا پیام دیا جائے تاکہ ممبئی کا ووٹر اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے کسی الجھن یا غلط فہمی کا شکار نہ رہے ۔ اس کے علاوہ تمام جماعتوںکی طاقت کو تقسیم ہونے سے روکنے پر بھی توجہ دی جانی چاہئے اور زمینی سطح پر ہر پارٹی کے ورکر کسی ذہنی تحفظ یا غلط فہمی کا شکار ہوئے بغیر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نتائج کو اپنے حق میں لانے میں کامیابی مل سکے ۔
پنچایت اور نگر پنچایت انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں نے تنہا اور اکیلے مقابلہ کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے ۔ وہ بی جے پی یا اس کی حلیف جماعتوں کی پیشرفت کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو پائی ہیں۔ ایسے میں اب ان کے سامنے ممبئی میونسپل کارپوریشن پر اقتدار حاصل کرنا ہے تو آپسی اتحاد کا ہی واحد راستہ بچ گیا ہے ۔ شیوسینا ادھو ٹھاکرے کی جانب سے اس سلسلہ میں پہل بھی کردی گئی ہے اور اس پر کانگریس ہو یا این سی پی ہو یا کوئی اور مقامی جماعت ہو انہیں فراخدلی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے اور زمینی حقیقت اور صورتحال کو بہتر طور پر سمجھتے ہوئے اتحاد کے ذریعہ مقابلہ کی حکمت عملی تیار کی جانی چاہئے ۔ اس سے پہلے کہ کافی تاخیر ہوجائے تمام جماعتوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کر نے کی ضرورت ہے ۔
