من کی بات نہیں ’جنتا کی چنتا‘

   

جمہوریت کا درس اگر چاہتے ہیں آپ
کوئی بھی سایہ دار شجر دیکھ لیجئے
کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی نے جو بھارت جوڑو یاترا کی تھی وہ کسی ایک کے من کی بات کو ملک کے عوام پر مسلط کرنے کیلئے نہیں تھی بلکہ جنتا کی چنتا کو سمجھنے کیلئے کی گئی تھی ۔ کانگریس جنرل سکریٹری مسٹر جئے رام رمیش نے یہ تبصرہ کیا ہے ۔ یہ تبصرہ بھارت جوڑو یاترا کے آغازکے چار سال کی تکمیل کے موقع پر کیا گیا ہے جو راہول گاندھی نے کی تھی ۔ راہول گاندھی نے 7 ستمبر 2022 کو یاترا شروع کی تھی جو کنیا کماری سے شروع ہو کر 30 جنوری 2023 کو کشمیر میں اختتام پذیر ہوئی تھی ۔ چار ہزار کیلو میٹر سے زیادہ فاصلہ راہول گاندھی نے ملک کی مختلف ریاستوں اور شہروں سے ہوتے ہوئے پیدل ہی پورا کیا تھا ۔ اس یاترا نے سارے ملک میں ایک نئی سوچ کو موقع فراہم کیا تھا اور حکومت کے خلاف جدوجہد ے جذبہ کی عکاسی اس یاترا کے ذریعہ ہوئی تھی ۔ اس یاترا کے نتیجہ میں کانگریس کیڈر میں عزم و حوصلے کو بحال کرنے میں کامیابی ملی تھی اور اس کے بعد کانگریس کے انتخابی امکانات میں بھی بہتری آئی تھی ۔ کانگریس پارٹی کوجنوبی ریاستوں کرناٹک اور تلنگانہ میں کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ یہاں اسے اقتدار ملا تھا ۔ لوک سبھا انتخابات میں بھی کانگریس پارٹی کی نشستوں کی تعداد دوگنی ہوگئی تھی حالانکہ یہ تعداد بھی توقعات سے بہت کم رہی تھی تاہم یہ شبہات ضرور پائے جاتے ہیں کہ انتخابی فہرستوں اور دیگر مبینہ دھاندلیوں کے ذریعہ کانگریس کے انتخابی امکانات متاثر کئے گئے تھے ۔ اس کے باوجود کانگریس کی حلیف جماعتوں اور انڈیا اتحاد کی شریک جماعتوں نے بھی انتخابی کارکردگی کو بہتر بنایا تھا جبکہ بی جے پی اورا س کی این ڈی اے کی حلیف جماعتوں کی نشستیں کم ہوگئی تھیں۔ غرض یہ کہ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے ملک میں ایک نئی تبدیلی کی شروعات کی تھی اور یہ شروعات اب ایسا لگتا ہے کہ اثر دکھا رہی ہے اور سماج کے مختلف طبقات کی جانب سے حکومت کے خلاف جدوجہد کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے اور حکومت کو عوام اور خاص طور پر طلباء و نوجوانوں کے مسائل پر توجہ دینے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے ۔
جئے رام رمیش نے یہ ریمارک اہمیت کا حامل ہے کہ کسی ایک فرد کے من کی بات عوام پر مسلط نہیں کی جانی چاہئے بلکہ جنتا کی چنتا کی جانی چاہئے ۔ یہ دیکھا جانا چاہئے کہ عوام کے مسائل کیا ہیں۔ ان کی تکالیف اور پریشانیاں کیا ہیں۔ انہیں کس طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔عوام کے معیار زندگی کو کس طرح سے بلند کیا جاسکتا ہے ۔ عوام کے مسائل کو کس طرح سے حل کیا جاسکتا ہے ۔ انہیں کس طرح سے راحت پہونچائی جاسکتی ہے۔ تاہم جہاں تک مرکزی حکومت کی بات ہے تو وہ عوامی مسائل پر توجہ دینے سے زیادہ محض اپوزیشن کو رسواء کرنے اور اسے بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔ جو لوگ اور گوشے حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں انہیں دماغی نکسل قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس طرح سے انہیں بھی سماج میں رسواء اور بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ کوششیں افسوسناک کہی جاسکتی ہیں۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک اور جمہوریت میں حکومت کی رائے سے اختلاف ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ ہندوستان میں جمہوری روایات کے مطابق اختلاف رائے رکھنے والوں کا احترام کیا جاتا تھا ۔ ان کی رائے کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن موجودہ حکومت اس روایت کے یکسر برخلاف کام کرتی ہے اور وہ حکومت کے خلاف رائے کو سننے اور سمجھنے کو ہی تیار نہیں ہوتی بلکہ مخالفانہ رائے رکھنے والوں کو بدنام اور رسواء کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی ۔
آج سماج کے تمام طبقات میں شعور بیدار ہو رہا ہے ۔ لوگ اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کیلئے تیار ہورہے ہیں۔ ملک کے نوجوانوں اور طلباء نے ملک کے عوام کو یہ راستہ دکھایا ہے کہ خوف کا شکار ہونے کی بجائے حقوق کیلئے دستوری اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کیا جاسکتا ہے اور کیا جانا چاہئے ۔ حکومت کو بھی اپنے من کی بات ملک کے عوام پر مسلط کرنے کی بجائے جنتا کے مسائل کی چنتا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان مسائل کے حل کی سمت پیشرفت ہوسکے ۔