مندروں پر نوٹوں کی بارش، اقلیتیں بجٹ سے تک محروم !

   

حیدرآباد۔7۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں مسلمان سیکولر ازم کے تحفظ کے نام پر تلنگانہ راشٹرسمیتی کا ساتھ دیتے رہے ہیں اور تلنگانہ میں برسراقتدار سیکولر ازم کے نام پر مسلمانوں کی تائید و حمایت کے حصول کے بعد ریاست میں سیکولر ازم کا جنازہ نکالنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہی ہے بلکہ تلنگانہ میں سیکولر ازم کے جنازے کو کندھا دینے کے لئے بھی مسلم سیاستدانوں کے کندھوں پر بوجھ عائد کیا جا رہاہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے کنڈہ گٹو مندر کے لئے 100 کروڑ کی منظوری کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی جلسہ عام سے خطاب کے دوران اس بات کا انکشاف کیا کہ ریاستی حکومت نے 384ایکڑ اراضی مختص کی جاچکی ہے اگر حکومت کی جانب سے منادر کی ترقیاتی کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو حکومت تلنگانہ نے ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے ریاست کے مختلف اضلاع میں کئی ایک منادر کو ترقی دینے کا عمل مکمل کیا ہے جن میں یدادری مندر کے لئے 1800کروڑ ‘ ویملواڑہ مندر کے لئے 500کروڑ‘ بھدرادری مندر 1000 کروڑ‘ بھدراکالی مندر 20کروڑ‘ روپئے کی تخصیص کے علاوہ مختلف منادر کے لئے اراضیات مختص کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں جن میں پروملا تروپتی دیوستھانم کے لئے تلنگانہ میں 10 ایکڑ اراضی کی فراہمی شامل ہے۔ حکومت کی جانب سے اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری یا مسلم مذہبی عباد تگاہوں و تاریخی عمارتوں کے علاوہ پرانے شہر کے ترقیاتی امور کے متعلق استفسار پر بجٹ نہ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن جب ریاست کی اکثریتی آبادی کے مذہبی مقامات کی ترقی کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو ملک کے نمبر ون سیکولر چیف منسٹر کروڑہا روپئے جاری کرنے سے نہیں کتراتے بلکہ ان کی اجرائی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں کی تکمیل کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی عاجلانہ تکمیل کی ہدایات بھی جاری کی جاتی ہیں۔ شہر حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد کی تزئین و آہک پاشی کے کاموں کے سلسلہ میں مسلسل توجہ دہانی کے باوجود ان کاموں کو مکمل کرنے میں کوئی پہل نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی ریاست کے کئی مقامات پر موجود تاریخی مساجد و قطب شاہی مساجد کی ترقی کے سلسلہ میں اس طرح کے کوئی اعلانات کئے جا تے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جب ایس سی ‘ ایس ٹی اور بی سی ویلفیر کے اقامتی اسکولوں کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں حکومت کے محکمہ مال کی جانب سے ان طبقات کے تعلیمی اداروں کے قیام کے لئے اراضیات کی تخصیص عمل میں لائی جاتی ہے لیکن جب ریاست میں اقلیتی اقامتی اسکولوں کے قیام و تعمیر کے اقدامات کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے توسیکولر حکومت محکمہ مال سے اراضیات کی تخصیص کے بجائے تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی اراضیات کے حصول کے اقدامات کی ہدایات جاری کرتی ہے ۔سرکاری مسلم عہدیدارو ںکی جانب سے دئیے جانے والے مشوروں اوران کے رویہ کے سبب تلنگانہ میں مسلم اقلیت تباہ کن صورتحال کا سامنا کررہی ہے اورحکومت ان کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے صرف خود کو سیکولر قرار دینے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ بقول بیرسٹر اسدالدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدرآباد و صدر مجلس اتحادالمسلمین سیکولر ازم کا تحفظ محض مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ سیکولر جماعتوں اور تنظیموں کو بھی سیکولر کردار کے ذریعہ اپنے سیکولر ازم کو ثابت کرنا چاہئے ۔رکن پارلیمنٹ ملک کی کئی ریاستوں میں اپنی انتخابی تقاریر کے دوران یہ کہہ چکے ہیںکہ سیکولر ازم کا بوجھ محض مسلمانوں کے کندھوں پر عائد نہ کیا جائے ۔ حکومت تلنگانہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے کہ وہ ریاست میں تمام طبقات کی یکساں ترقی و خوشحالی کو یقینی بنائیں ۔ ایس سی ‘ ایس ٹی اور بی سی طلبہ کی اوورسیز اسکالر شپس کی اجرائی میں کوئی تاخیر نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کی فیس بازادائیگی اسکیم میں حکومت کی جانب سے تاخیر کی جا رہی ہے لیکن سیکولر ریاستی حکومت کی جانب سے مسلم اقلیت کو فراہم کی جانے والی فیس باز ادائیگی ‘ اسکالر شپس کے علاوہ اوورسیز اسکالرشپس میں تاخیر معمول کی بات بن چکی ہے۔م