منوگوڑ ضمنی انتخاب تین ذاتوں کے ووٹ ہی انتہائی اہم

   

حیدرآباد16۔اکٹوبر(سیاست نیوز) حلقہ اسمبلی منوگوڑ کے ضمنی انتخاب کی مہم انتہائی عروج پر پہونچ چکی ہے ۔ یہاںہر جماعت کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔ ذات پات کی اساس پر ووٹ حاصل کرنے کے بھی منصوبے بن رہے ہیں۔ تاہم اس حلقہ میں تین اہم طبقات ہیں جن کے ووٹ کسی بھی پارٹی کیلئے فیصلہ کن اور اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان میںگوڑبرادری ‘ پدماشالی برادری اور یادو برادری شامل ہیں۔ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والی تمام بڑی جماعتیں ان طبقات کے ووٹ پر توجہ کئے ہوئے ہیں۔ منوگوڑ کے جملہ ووٹوں میں ان تینوں طبقات کے ووٹ ایک لاکھ کے قریب ہیں۔ پدماشالی کے ووٹ 40 ہزار ‘ یادو طبقہ کے ووٹ 35 ہزار اور گوڑ طبقہ کے ووٹ 30 ہزار سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ حلقہ منوگوڑ میں جملہ ووٹ 2 لاکھ 41 ہزار ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ضمنی انتخاب میں مقابلہ کرنے والے تمام امیدواروں کیلئے ان تینوں طبقات کے ووٹ اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کے ووٹ حاصل کرنے ان برادریوں کے ذی اثر افراد کی آو بھگت شروع کردی گئی ہے ۔
منوگوڑ ضمنی انتخاب پر سٹہ عروج پر ۔ نتائج کے تعلق سے تجسس میں مسلسل اضافہ
حیدرآباد۔16۔اکٹوبر(سیاست نیوز) منوگوڑحلقہ کے ضمنی انتخابات کے نتائج پر ابھی سے تجسس پیدا ہونے لگا ہے اور سٹہ بازار تلنگانہ اسمبلی کے اس ایک حلقہ پر کروڑہا روپئے کا سٹہ کھیل رہا ہے۔ منوگوڑ حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات کی اہمیت میں جو اضافہ ہورہا ہے اس کے متعلق سٹہ بازوں کا کہناہے کہ ان انتخابات کے نتائج تلنگانہ میں بی جے پی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے ۔ سٹہ بازوں کے مطابق ابتداء میں منوگوڑحلقہ اسمبلی میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کو کوئی مقابلہ نہیں تھا لیکن حالات تیزی سے تبدیل ہوچکے ہیں اور بی جے پی کو استحکام حاصل ہونے لگا ہے۔ ذرائع کے مطابق سٹہ بازار سے تعلق رکھنے والوں نے ملک کے مختلف مقامات سے سروے کے ماہرین کو منوگوڑ انتخابات کے سروے کیلئے جمع کیا جو کہ عوام سے راست رابطہ میں آکر صورتحال سے آگہی حاصل کر رہے ہیں۔ ضمنی انتخابات میں تلنگانہ راشٹر سمیتی اور بھارتیہ جنتاپارٹی کے درمیان مقابلہ کی پیش قیاسی کی جا رہی ہے اور کہاجا رہاہے کہ کانگریس پر جو سٹہ لگایا جار ہاہے اس کے تعلق سے محض کتنے ووٹ حاصل ہوں گے پر سٹہ بازی عروج پر ہے جبکہ شکست یا فتح کے معاملہ میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کا ہی نام لیا جا رہاہے۔ منوگوڑضمنی انتخابات میں صرف شہر نہیں بلکہ ممبئی ‘ بنگلورو‘ مشرقی و مغربی گوداوری‘ وشاکھاپٹنم‘ ویزاگ اور دیگر شہروں میں بھی سٹہ عروج پر ہے۔دونوں جماعتوں کے قائدین کی سرگرمیوں اور عوام پر ان کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے سروے کے متعلق کہا جار ہاہے کہ لمحہ بہ لمحہ یہاں صورتحال تبدیل ہورہی ہے اور اس بدلتی صورتحال نے تلنگانہ راشٹر سمیتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں کو ہی الجھن میں مبتلاء کیا ہوا ہے۔ ریاست میں برسراقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی کے قائدین کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہاہے کہ منوگوڑمیںٹی آر ایس نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے اس پر انہیں مکمل اعتماد ہے جبکہ بی جے پی امیدوار کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کا کہنا ہے کہ حلقہ کے عوام انہیں بہر صورت کامیاب بنائیں گے کیونکہ وہ عوام کے درمیان رہتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کررہے ہیں۔م