29 تا 31 اکتوبر بی ایس پی، ٹی آر ایس اور بی جے پی کے جلسے ، کے سی آر اور جے پی نڈا حصہ لیں گے
بھارت جوڑو یاترا میں آج کانگریس امیدوار پی شراونتی شامل ہوں گی
حیدرآباد 26 اکتوبر (سیاست نیوز) اسمبلی حلقہ منوگوڑ میں انتخابی مہم عروج پر پہنچ چکی ہے۔ دیوالی تہوار کے وقفہ کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین دوبارہ منوگوڑ کا رخ کررہے ہیں جس سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں۔ انتخابی مہم کے اختتام کے لئے صرف 5 دن باقی رہ گئے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے اور رائے دہندوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر انتخابی مہم چلا رہی ہیں اور اپنے بڑے قائدین کے ساتھ جلسہ عام کا انعقاد کرنے کی تیاریاں کررہی ہیں۔ تلنگانہ بی ایس پی کے سربراہ آر ایس پراوین کمار نے پارٹی کے امیدوار کی تائید میں 29 اکتوبر کو نارائن پور پر جلسہ عام کا انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر 30 اکتوبر کو شنڈور میں منعقد ہونے والے ٹی آر ایس کے جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ 31 اکتوبر کو منعقد ہونے والے بی جے پی کے جلسہ عام سے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا خطاب کریں گے۔ اسمبلی حلقہ منوگوڑ کی کانگریس امیدوار پالوائے شراونتی 27 اور 28 اکتوبر کو بھارت جوڑو یاترا میں راہول گاندھی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں گی۔ تینوں اہم جماعتوں کانگریس، ٹی آر ایس اور بی جے پی نے اپنی ساری سیاسی طاقت اسمبلی حلقہ منوگوڑ کے ضمنی انتخاب پر جھونک دی ہے۔ ان جلسوں کے ذریعہ ہر پارٹی اپنی اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے۔ متحدہ ضلع نلگنڈہ ٹی آر ایس کے انچارج ٹی رویندر راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کے جلسہ عام کو کامیاب بنانے کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ 31 اکتوبر کو شام 4 بجے منوگوڑ میں بی جے پی کا جلسہ عام منعقد کیا جارہا ہے۔ اس جلسہ عام میں بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا، مرکزی وزیر سیاحت جی کشن ریڈی کے علاوہ دوسرے مرکزی وزرا کے شرکت کرنے کا قوی امکان ہے۔ واضح رہے کہ 21 اگست کو منوگوڑ میں چیف منسٹر کے سی آر ایک جلسہ عام سے خطاب کرچکے ہیں۔ اس کے دوسرے دن 22 اگست کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی ایک جلسہ عام سے خطاب کرچکے ہیں۔ بی جے پی کے تمام قائدین اسمبلی حلقہ منوگوڑ کے مختلف علاقوں میں پھیل کر انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی بھی اپنی انتخابی مہم میں شدت پیدا کردی ہے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی اپنا زیادہ وقت اسمبلی حلقہ منوگوڑ کی انتخابی مہم پر صرف کررہے ہیں۔ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا تلنگانہ میں داخل ہوچکی ہے۔ تین دن کے وقفہ کے بعد جس کا 27 اکتوبر کو مکتھل سے دوبارہ آغاز ہو رہا ہے۔ پارٹی کے قائدین نے کچھ اس طرح کا پلان تیار کیا ہیکہ کانگریس کی امیدوار پی شراونتی 27 اور 28 اکتوبر کو اسمبلی حلقہ منوگوڑ میں کانگریس قائدین کو راہول گاندھی کے ساتھ پیدل چلنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ 27 اکتوبر کو 4 منڈل اور 28 اکتوبر کو 3 منڈل جملہ 298 بوتھ سے ہر بوتھ کے حدود میں 100 پارٹی کارکنوں کو پدیاترا کا حصہ بنایا جارہا ہے۔ ضرورت پڑنے پر یکم نومبر کو شمس آباد کے قریب منعقد ہونے والے راہول گاندھی کے جلسہ عام میں زیادہ سے زیادہ اسمبلی حلقہ منگوڑ کے عوام کو پہنچانے کی بھی تیاری کی جارہی ہے۔ کانگریس کے ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ جلسہ عام کے لئے ابھی قطعی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے، جس طرح رائے دہی کی تاریخ قریب آرہی ہے۔ تین اہم سیاسی جماعتوں ٹی آر ایس، بی جے پی اور کانگریس نے اپنی انتخابی مہم میں شدت پیدا کردی ہے۔ ہر منڈل سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ بعض مقامات میں کشیدہ صورتحال دیکھی جارہی ہے۔ کہیں کانگریس ۔ بی جے پی تو کہیں ٹی آر ایس۔ کانگریس اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان تصادم ہو رہا ہے جس سے صورتحال کشیدہ ہو رہی ہے۔ اہم سیاسی جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے کو تنقیدوں کا نشانہ بنارہے ہیں۔ ان کشیدہ صورتحال کے پیش نظر 40 حساس گاؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے پولیس پکٹس کو تعین کردیا گیا ہے۔ بعض مقامات پر سنٹرل فورسیس کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جارہا ہے۔ ساتھ ہی جرائم میں ملوث افراد کو پولیس شہربدر کررہی ہے یا انہیں اپنی تحویل میں لے رہی ہے۔ ن