منگلورو مسجد تنازعہ: ایس ڈی پی آئی کی آر ایس ایس کو دھمکی

   

منگلورو ۔ کرناٹک کے ملالی میں جامع مسجد تنازعہ پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو دھمکی دیتے ہوئے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے آر ایس ایس کو کھلے عام دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس جگہ سے ایک مٹھی مٹی بھی نہیں لے جاسکتا جہاں مندرنما ڈھانچہ پائے جانے کا دعویٰ کیا گیاہے ۔ ملالی میں جامع مسجد کی تجدیدکاری کے دوران ایک مندر کے کھنڈرات ملنے کے بعد منگلورو میں ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ ہندو تنظیموں نے محسوس کیا کہ جس جگہ مسجد بنائی گئی ہے وہاں ایک شیو مندر موجود ہے ۔ کچھ دن پہلے ، وشو ہندو پریشد سمیت کئی ہندو تنظیموں نے یہ جاننے کے لئے تمبولا پرشن کی رسم ادا کی تھی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس وقت جہاں مسجد بنائی گئی ہے وہاں شیو مندر موجود ہے یا نہیں۔ ہندو گروپوں کے مطابق اس رسم نے مسجد کے مقام پر ایک مندر کے وجود کی تصدیق کی ہے ۔ مندر کے دعوؤں پر ردعمل کااظہارکرتے ہوئے کرناٹک ایس ڈی پی آئی کے صدرعبدالمجید نے فرقہ وارانہ رنگ کے ساتھ ایک بیان جاری کیا جس میں دکشن کنڑ کے لوگوں کوہندو تنظیموں کو دکھانے کے لئے کہا کہ وہ مسجد کی جگہ سے مٹھی بھر مٹی بھی نہیں لے سکتے ۔ منگلورو شہر کے پولس کمشنر نے حال ہی میں اس تنازعہ پر کشیدگی بڑھنے پر دفعہ 144 نافذ کر دی تھی۔دکشن کنڑ کے ڈپٹی کمشنر کے وی راجندر نے حال ہی میں کہا کہ ضلع انتظامیہ زمین کے پرانے ریکارڈ اور ملکیت کی تفصیلات کے اندراجات کو دیکھ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ محکمہ اوقاف اور وقف بورڈ دونوں سے معلومات حاصل کر رہی ہے ۔