موجودہ سیاست میں کسی پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا : ریونت ریڈی

   

اقتدار کے ساتھ دوستی کا رجحان، راج شیکھر ریڈی اور کے وی پی کی دوستی مثالی، ایوارڈ تقریب سے چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد۔ 3 ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ موجودہ سیاست میں کسی پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اور آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی اور کے وی پی رام چندر راؤ نے جو دوستی نبھائی ہے اس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کل آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی برسی کے موقع پر وائی ایس آر میموریل ایوارڈ پیشکشی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اقتدار ملتے ہی بعض افراد قریب آجاتے ہیں اور اقتدار جاتے ہی وہ بھی غائب ہو جاتے ہیں۔ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے لئے کے وی پی رام چندر راؤ نے ایک سچے دوست کی طرح کام کیا۔ موجودہ نسل کے لئے وائی ایس آر اور کے وی پی رام چندر راؤ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بعض افراد مجھ سے رجوع ہوئے اور کہا کہ وہ کے وی پی رام چندر راؤ کی طرح ساتھ دیں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ کے وی پی رام چندر راؤ کی طرح بننے کا خیال چھوڑ دیجئے اور یہ ممکن نہیں ہے۔ ان کی طرح حقیقی دوست بننے کے لئے قربانیوں کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں اگر کسی کو ایک ہفتہ کے لئے آفس میں آنے کی اجازت دی گئی تو وہ دوسرے ہفتہ میری کرسی پر بیٹھ کر کہے گا کہ سب کچھ میں دیکھ لوں گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ موجودہ سیاست میں دوستی صرف اقتدار سے مربوط ہوتی ہے اور اقتدار ختم ہوتے ہی سب غائب ہو جاتے ہیں۔ ابتدائی تعلیم سے موت تک وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے ساتھ کے وی پی رام چندر راؤ ایک سائے کی طرح رہے۔ راج شیکھر ریڈی نے کسانوں کو بھروسہ دلایا کہ زراعت مصیبت نہیں بلکہ ایک تہوار ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ موجودہ نسل کے لئے وائی ایس آر اور کے وی پی کا کوئی متبادل نہیں۔ رام چندر راؤ ہمیشہ غلطیوں کو اپنے کھاتے میں جمع کرتے اور اچھائی کو راج شیکھر ریڈی سے منسوب کرتے۔ ہر چیز کی قربانی دینے کی صلاحیت اور مسائل کا سامنا کرنے کی طاقت کے وی پی کے پاس ہے۔ آنجہانی راج شیکھر ریڈی نے ملک میں پہلی مرتبہ کسانوں کو مفت برقی سربراہی کا تصور دیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف برقی مفت سربراہ کی بلکہ کسانوں کے قرضہ جات معاف کئے اور ان کے مقدمات کو ختم کیا۔ 2 روپے فی کیلو چاول کو ایک روپے میں سربراہ کیا گیا۔ جب کبھی مفت برقی کا ذکر آئے گا وائی ایس راج شیکھر ریڈی کا نام یاد آئے گا۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اور آروگیہ شری جیسی اسکیمات وائی ایس آر کا کارنامہ ہے۔ حکومت چاہے کسی کی ہو ان اسکیمات کو جاری رکھنا پڑے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ میں 3.10 کروڑ افراد کو باریک چاول مفت سربراہ کیا جارہا ہے۔ اقتدار کے اندرون 3 ماہ ہم نے 2 لاکھ کسانوں کے قرض معاف کئے۔ 25 لاکھ 35 ہزار 694 کسانوں کے 20,617 کروڑ کے قرضہ جات معاف کئے گئے۔ تلنگانہ حکومت کسانوں کو دھان کی پیداوار پر 500 روپے بونس ادا کررہی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ اور نلگنڈہ میں فلورائیڈ کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے آنجہانی وائی ایس آر نے مساعی کی تھی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ راہول گاندھی کو زیر اعظم بنانا آنجہانی وائی ایس آر کا مشن تھا جس کی تکمیل کے لئے میں اور وائی ایس شرمیلا کام کریں گے۔ ریونت ریڈی نے یاددلایا کہ جس وقت راج شیکھر ریڈی چیف منسٹر تھے وہ اپوزیشن رکن اسمبلی کی حیثیت سے حکومت سے سوالات کرتے تھے لیکن راج شیکھر ریڈی نے میری تنقیدوں کا جواب دیا۔ وائی ایس آر کا کہنا تھا کہ ان میں غصہ ختم ہوچکا ہے اور کسی غرور و تکبر کے بغیر وہ اپوزیشن کے سوالات کا جواب دیتے رہے۔ سابق چیف منسٹر ہریانہ ہوڈا، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ، ریاستی وزراء اور آندھرا پردیش کے کانگریس قائدین وائی ایس شرمیلا اور دوسروں نے خطاب کیا۔ 1