مودی حکومت مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہی ہے

   

کیرالا میں سابق چیف منسٹر کے مکان پر ای ڈی کے دھاؤں کی سی پی ایم کے قائدین کی مذمت
حیدرآباد ۔27۔ مئی (سیاست نیوز) سی پی آئی کے سینئر قائدین نے مرکزی حکومت پر تحقیقاتی ایجنسیوں کا بڑے پیمانہ پر سیاسی استحصال کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ۔ آج حیدرآباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سی پی ایم کے پولیٹ بیورو ارکان اے وجیہ راگھون اور بی وی راگھولو نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی۔ بائیں بازو کے قائدین نے بی جے پی قیادت والی مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مرکز کی جانب سے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ جیسی خود مختار ایجنسیوں کو اپوزیشن کی آواز دبانے کیلئے ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کیرالا کے سینئر قائد اور سابق چیف منسٹر پنارائی وجین کا تذکرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بدعنوانی کا کوئی معاملہ نہ ہونے کے باوجود ای ڈی کو آگے کر کے انہیں مسلسل ہراساں و پریشان کیا جارہا ہے اور ان کی رہائش گاہ پر ای ڈی کی حالیہ کارروائی سراسر ایک سیاسی حملہ ہے ۔ سی پی ایم کے قائدین نے واضح کیا کہ مرکزی حکومت ان تمام سیاسی قوتوںکو نشانہ بنارہی ہے جو اس کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف سوال اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اس سیاسی رویہ کے خلاف سی پی ایم خاموش نہیں رہے گی بلکہ عوام کو متحرک کر کے ان تمام سازشوں کا سڑکوں پرمقابلہ کیا جائے گا اور اس کے خلاف قانونی جنگ بھی لڑی جائے گی۔ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکز کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے ملک میں بے تحاشہ مہنگائی بڑھ رہی ہے جس کا سارا بوجھ عام آدمی پر پڑھ رہا ہے اور مرکزی حکومت تمام محاذوں پر مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ پولیٹ بیورو کے رکن بی وی راگھولو نے الزام لگایا کہ حال ہی میں پانچ ریاستوں کے انتخابات کے نتائج کے بعد اپوزیشن جماعتوں پر حملہ کی شدت میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹاملناڈو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مرکز نے وہاں گورنر کے عہدہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے حکومت سازی کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کیں، جو جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ ہندوستان کی موجودہ خارجہ پالیسی متوازن نہیں ہے اورمرکز کی جانب سے امریکہ کی پالیسیوں کی اندھی تقلید کی جارہی ہے جو ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔2/k