مودی مایوس اور پریشان ہیں، ’جھولا اٹھا کر جانے‘ کا وقت قریب

   

وزیر اعظم کے ’دماغی نکسل‘ والے بیان پر کانگریس قائد جے رام رمیش کا سخت ردعمل

نئی دہلی ۔8؍نومبر ( ایجنسیز )کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے وزیر اعظم مودی کے ’دماغی نکسل‘ والے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہیکہ وزیر اعظم واضح طور پر مایوس، پریشان اور بے چین ہیں اور ان کے ’جھولا اٹھا کر جانے‘ کا وقت تیزی سے قریب آرہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دیوالی جیسے غیر سیاسی اور سنجیدہ موقع پر بھی وزیر اعظم نے اپنے مخصوص انداز میں سیاسی مخالفین کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی۔ ایکس پر اتوار کو جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر ’دماغی نکسل‘کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ وزیر اعظم نے سکیورٹی فورسز کی وردی پہن کر ایک غیرسیاسی تقریب میں سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا جو مناسب نہیں تھا۔ ان کے مطابق قومی سلامتی اور فوجی جوانوں سے متعلق مواقع کو سیاسی بیانات کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ مودی حکومت کا ماضی کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہیکہ وزیراعظم نے مختلف عوامی مطالبات اور احتجاجی تحریکوں کو پہلے شدت پسند نظریات سے جوڑا لیکن بعد میں انہی معاملات پر اپنا مؤقف تبدیل کر لیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 28 اپریل 2024 کو وزیراعظم نے ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کرنے والوں کو ’شہری نکسل‘ قرار دیا تھا تاہم بعد میں 30 اپریل 2025 کو حکومت نے اعلان کیا کہ 2027 کی مردم شماری کے تحت ذات پر مبنی مردم شماری بھی کرائی جائے گی۔کانگریس جنرل سکریٹری نے زرعی قوانین کیخلاف کسانوں کی تحریک کا بھی حوالہ دیا۔ ستمبر 2020 میں وزیراعظم نے تین متنازعہ زرعی قوانین کیخلاف احتجاج پر کسانوں کو نکسل نظریات کا حامی قرار دیا تھا لیکن مسلسل احتجاج اور عوامی دباؤ کے بعد وزیراعظم کو ان تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کرنا پڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ بی جے پی اور حکومت اختلاف رائے کو سننے کے بجائے ابتدا میں مخالفین کیلئے سخت اور توہین آمیز اصطلاحات استعمال کرتی ہے اور بعد میں جب عوامی دباؤ بڑھتا ہے تو حکومت کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑتا ہے۔ کانگریس رہنما نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم کی حالیہ زبان ان کی بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی کی علامت ہے۔ وزیراعظم نے آج چھتیس گڑھ کے بستر ضلع کے کرن پور میں سی آر پی ایف کیمپ میں جوانوں کے ساتھ دیوالی منائی اور کہا کہ اگرچہ مسلح ماؤ نوازوں کیخلاف کارروائیوں میں کامیابیاں ملی ہیں مگر نکسل ازم کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’دماغی نکسل‘‘ سیاسی جماعتوں سمیت متعدد تنظیموں میں داخل ہو چکے ہیں اور لوگوں کو آئین اور جمہوریت کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ مودی نے کہا کہ ایسے عناصر کی شناخت کر کے انہیں شکست دینا اور ملک کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔