مہاراشٹراکے باغی ارکان کی شکایت اور تلنگانہ میں یکسانیت
حیدرآباد۔29 جون(سیاست نیوز) ملک میں ارکان اسمبلی کی بغاوت کا موسم چل رہا ہے یا ارکان اسمبلی اپنے قائدین کو کمزور محسوس کرنے لگے ہیں! شیوسینا میں جاری ارکان اسمبلی کی بغاوت سے ریاست مہاراشٹرا کے حالات ابھی سنبھل نہیں پائے ہیں کہ بہار میں مجلس اتحاد المسلمین کے 5ارکان اسمبلی میں 4ارکان اسمبلی نے راشٹریہ جنتا دل میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اپنی پارٹی قیادت کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔مہاراشٹرا میں شیوسینا ارکان اسمبلی کی بغاوت اور بہار میں مجلسی ارکان اسمبلی کی بغاوت کے بعد اب اگلا نشانہ کون سی جماعت ہوگی ! چیف منسٹر مہاراشٹراسے شیوسینا ارکان اسمبلی کو جو شکایات تھیں ان میں چیف منسٹر کی جانب سے ملاقات کے لئے وقت نہ دیا جانا اور پارٹی ارکان اسمبلی کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کرنا ہے اور اب بہار میں مجلسی ارکان اسمبلی کی
بغاوت کے متعلق بھی کہا جا رہاہے کہ انہیں بھی پارٹی میں اہمیت نہ دیئے جانے اور بغیر ان کے مشوروں کے فیصلے کئے جانے کی شکایات رہی ہیں اور وہ ان شکایات کے متعلق کئی مرتبہ بات چیت کرچکے ہیں لیکن کوئی نتائج برآمد نہ ہونے کے سبب انتہائی اقدام پر مجبور ہوئے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں میں موجود سینئر قائدین نے پارٹی سے بغاوت کے ان واقعات کو افسوسناک اور پارٹی قیادت کی اپنے ارکان اسمبلی پر کمزور گرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی میں ارکان اسمبلی کے ساتھ رویہ اہانت آمیز ہوتو ایسی صورت میں وہی ارکان اسمبلی باقی رہ سکتے ہیں جواپنے مستقبل اور کامیابی کے متعلق فکرمند رہتے ہوئے ذلت برداشت کرنے تیارہیں۔ ریاست تلنگانہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے بھی ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کو اہانت آمیز رویہ اختیار کئے جانے کی شکایت ہے اور اس بات سے بھی سب واقف ہیں کہ ٹی آر ایس سربراہ بھی اپنے ہی ارکان اسمبلی کو ملاقات کے لئے وقت نہیں دیتے ۔ شیوسینا چیف ادھو ٹھاکرے اپنے پارٹی کے باغی ارکان اسمبلی سے رابطہ اور ان کے اعتراضات کے متعلق آگہی حاصل کرنے کی کوشش اور انہیں خوفزدہ کرتے ہوئے پارٹی میں لانے کی ناکام کوشش کر تے رہے اور اب مجلس کو اسی طرح کی صورتحال کا سامنا بہار میں کرنا پڑرہا ہے ۔بہار میں راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس اتحاد کے خلاف مقابلہ کرتے ہوئے مجلس کے ٹکٹ پر سیمانچل کی ترقی کی جدوجہد کے نام پر کامیابی حاصل کرنے والے 5 ارکان اسمبلی میں اب ریاست بہار میں صرف ریاستی صدر مجلس بہار باقی رہ گئے ہیں جبکہ مابقی 4ارکان اسمبلی محمد اظہار اصفی رکن اسمبلی کوچہ دمن‘ شاہنواز عالم رکن اسمبلی جوکی ہاٹ‘ سید رکن الدین رکن اسمبلی بائیسی اور اظہر نعیمی رکن اسمبلی بہادر گنج نے مجلس
اتحادالمسلمین سے بغاوت کرتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ بہار میں جہاں مجلس اتحادالمسلمین کے 5ارکان اسمبلی کی کامیابی کو مجلس کی بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا تھا وہا ں اب ریاستی صدر مجلس و رکن اسمبلی اخترالایمان مجلس میں باقی رہ گئے ہیں ۔ 2019 میں بہار اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہونے والے 5ارکان اسمبلی میں سے 4ارکان اسمبلی کی راشٹریہ جنتادل میں شمولیت پر تیجسوی یادو نے ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بہار میں سیکولر ازم کے تحفظ اور سیمانچل کے مسائل کے حل کے لئے ان کی پارٹی کام کرے گی اور انہیں امیدہے کہ مجلس سے مستعفی ہوتے ہوئے آرجے ڈی میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی آرجے ڈی کے نظریات کے مطابق سیکولر ازم کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔م