موسیٰ ندی بحالی پراجکٹ میں بڑی پیشرفت، حدود کی نشاندہی کیلئے مشترکہ سروے

   

55 کیلو میٹر کے منجملہ 8 کیلو میٹر کی نشاندہی، ندی کے حدود سے دونوں طرف 50 میٹر بفرزون بنانے کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 30 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے موسیٰ ندی کی بحالی پر توجہ مرکز کرتے ہوئے اس کے حدود کو طئے کرنے کے عمل کو تیز کردیا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت گنڈی پیٹ اور راجندر نگر منڈلوں کے کئی علاقوں کی عوام کو اپنے مکانات سے محروم ہونے کا اندیشہ تھا جس کی وجہ سے متاثرین میں شدید تشویش پائی جارہی تھی۔ تاہم حکومت نے اب ایک ایسا درمیانی راستہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے رہائشی مکانات کو کم سے کم نقصان پہنچے گا۔ اس کیلئے حکام ان رہائشی علاقوں میں ہریالی (گرینری) اور دیگر ترقیاتی پروگراموں کے منصوبوں میں ضروری تبدیلیاں کررہے ہیں۔ اس پورے عمل کے پہلے مرحلے کے طور پر موسیٰ ندی کی اصل حدود کی سائنسی بنیادوں پر نشاندہی کی جارہی ہے اور 55 کیلو میٹر کے طویل راستے پر حدبندی کی جارہی ہے۔ حکام کا ماننا ہیکہ حدبندی کے بغیر ندی کی درست حدود کا پتہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ سرکاری تخمینے کے مطابق زمین کے حصول کے اخراجات کو چھوڑ کر اس منصوبے کے پہلے مرحلہ میں شروع کئے جانے والے 21 کیلو میٹر کے حصے پر تقریباً 6,500 کروڑ سے 7,000 کروڑ روپئے کی بھاری لاگت آئے گی۔ اس مرحلہ میں عثمان ساگر سے گاندھی سرور تک 11.8 کیلو میٹر اور حمایت ساگر سے گاندھی سرور تک 9.2 کیلو میٹر کے حصہ پر کام شروع کیا جارہا ہے جس کے تحت حکام نے مدھورڈ اپارٹمنٹس اور کیرتی رچمنڈ ولاز جیسی بڑی رہائشی عمارتوں کو نوٹسیں جاری کئے گئے۔ اس صورتحال کے بعد متاثرین نے ڈپٹی چیف منسٹر کی قیادت میں تشکیل دی گئی کابینہ کی سب کمیٹی سے ملاقات کرتے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ متاثرین کی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے محکمہ مال اور (MRDCL) کے عہدیداروں نے مشترکہ سروے شروع کیا ہے اور اب تک گنڈی پیٹ سے گوریلی تک 55 کیلو میٹر سے 8 کیلو میٹر کے حصے میں حدبندی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ حکومت کے بنیادی منصوبے کے تحت اس حدبندی سے دونوں طرف 50 میٹر تک کے علاقے کو بفرزون کے طور پر نشاندہی کی جائے گی جہاں دریائی ماحولیاتی نظام کی بحالی، بین الاقوامی معیار کے بنیادی ڈھانچے، پارکس اور سیاحتی مراکز قائم کئے جائیں گے۔2/A/b