موسیٰ ندی پر 15 پلوں کی تعمیر، حکومت نے 545 کروڑ کی انتظامی منظوری دے دی

   

چار اداروں کو ذمہ داری تفویض، نصف مصارف ایچ ایم ڈی اے برداشت کرے گی، ماباقی رقم جی ایچ ایم سی قرض لیگی
حیدرآباد۔ 3 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے موسیٰ ندی پر تعمیر ہونے والے 15 برجس یعنی پُلوں کے لئے 545 کروڑ روپے کی انتظامی منظوری دیتے ہوئے ان تعمیری کاموں کو حکومت کے چار اداروں جی ایچ ایم سی، ایچ آر ڈی سی ایل، ایچ ایم ڈی اے اور قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو سونپ دیا ہے۔ اپنے ذاتی مصارف یا قرض حاصل کرتے ہوئے ان برجس کی تعمیر کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ فی الحال جی ایچ ایم سی معاشی بحران سے دوچار ہے۔ ایس آر ڈی پی، سی آر ایم پی، ایس این ڈی پی کے تحت جو ترقیاتی و تعمیری کام انجام دیئے جارہے ہیں اس سے جی ایچ ایم سی قرضوں میں مبتلا ہے۔ ماہانہ اپنے عملہ کو تنخواہوں کی ادائیگی میں پریشانی کا سامنا ہے۔ حکومت نے اس پر مزید مالی بوجھ عائدکردیا ہے۔ جی ایچ ایم سی کو حوالے کئے گئے کاموں پر 168 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ تیار کیا گیا ہے۔ جس کے تحت موسیٰ ندی پر ابراہیم باغ کو جوڑتے ہوئے ایک ہائی لیول برج تعمیر کرنا ہے جس پر 39 کروڑ، موسی رام باغ کو جوڑتے ہوئے ہائی لیول برج پر 52 کروڑ، چادر گھاٹ پر ہائی لیول برج جس پر 42 کروڑ، عطاپور کے پاس موجود پُل سے متصل نئے برج کی تعمیرات پر 35 کروڑ روپے کے مصارف ہوں گے۔ حیدرآباد روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈ (ایچ آر ڈی سی ایل) کے کاموں پر 116 کروڑ روپے کا تخمینہ تیار کیا گیا ہے۔ کاریڈار نمبر 99 مسینگ لنک کے قریب ہائی لیول برج پر 52 کروڑ عیسیٰ ندی پر سن سٹی، چنتل میٹ کو جوڑتے ہوئے ہائی لیول برج 32 کروڑ، بنڈلہ گوڑہ جاگیر عیسیٰ ندی پر انٹر رنگ روڈ۔ قسمت پور کو جوڑتے ہوئے ہائی لیول برج کی تعمیر پر 32 کروڑ روپے کے مصارف، قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے کاموں پر 40 کروڑ
روپے کے اخراجات ہیں۔ افضل گنج کے قریب آئیکانک پیدل راہ برج 40 کروڑ، ایچ ایم ڈی اے کے لئے 221 کروڑ روپے کے مصارف، اُپل لے آؤٹ موسیٰ ندی کو جنوب میں جوڑتے ہوئے نئے برج کی تعمیر کے لئے 42 کروڑ روپے، حیدرشاہ کوٹ رام دیوگوڑہ کے درمیان نئے برج کی تعمیر کے لئے 42 کروڑ کے علاوہ دیگر برجس شامل ہیں۔ تمام اخراجات میں نصف اخراجات ایچ ایم ڈی اے کو برداشت کرنا ہے۔ ماباقی رقم کے لئے جی ایچ ایم سی کو بینکوں سے قرض لینے پر زور دیا گیا ہے۔ ن