موسیٰ جن آندولن کے ذریعہ مرکزی ماحولیاتی کمیشن سے رجوع ہونے کا فیصلہ
حیدرآباد۔10۔ستمبر۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کے خلاف جاری احتجاج میں شدت پیدا کرتے ہوئے اسے عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ’’موسیٰ جن آندولن‘‘نے ہر فورم پر اس پراجکٹ کی مخالفت کرنے کے علاوہ مرکزی ماحولیاتی کمیشن سے رجوع ہونے کے فیصلہ سے واقف کروایا اور دعویٰ کیا ہے کہ موسیٰ ندی کے طاس میں موجود اراضیات کو حاصل کرنے کے لئے حکومت موسیٰ ندی کو ’’تھیمس‘‘ کے طرز پر ترقی دینے کا دعویٰ کررہی ہے۔ اندرا پارک ‘ دھرنا چوک پر منعقد ہونے والے احتجاجی پروگرام کے دوران موسی جن آندولن کے ذمہ داروں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت عالمی اداروں سے قرض حاصل کرنے کے لئے اس پراجکٹ پر کام کررہی ہے۔ موسیٰ ندی کے طاس میں بسے ہوئے غریب خاندانوں کو بے گھر کرتے ہوئے انہیں روزگار کی فراہمی کا وعدہ کیا جا رہاہے جو کہ گمراہ کن ہے۔ جن آندولن کے احتجاجی پروگرام میں شریک افراد نے بتایا کہ ریاستی حکومت گمراہ کن پروپگنڈہ کے ذریعہ غریب عوام کے گھر حاصل کرنے کے بعد ان اراضیات کو اونچی تعمیرات کے لئے سرکردہ کمپنیوں کے حوالہ کرنے کے منصوبہ کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ محترمہ سندھیا نے بتایا کہ غریب بستیوں کو برباد کرتے ہوئے اس علاقہ کو ترقی دینے کے ساتھ ان بستیوں میں موجود بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کا جھانسہ دیا جا رہاہے ۔ انہو ںنے استفسار کیا کہ آیا کیا وہ ناخواندہ اور کم پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزموسیٰ ریور پراجکٹ میں کاروبار کی اجازت دے گی یا سرکردہ تفریحی کمپنیوں کو یہ علاقہ حوالہ کرتے ہوئے ان کے پاس ان بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت کی پیشکش کی جائے گی۔ محترمہ سجایا نے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کے نام پر عوامی دولت کو تباہ کئے جانے کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ 1990کی دہائی سے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کے نام پر کروڑہا روپئے ندی میں بہائے جاچکے ہیں اور اب موجودہ حکومت لاکھوں کروڑ روپئے پر مشتمل پراجکٹ کے ساتھ عوامی مفادات کے علاوہ ماحولیات کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ انہو ںنے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت اس پراجکٹ میں ’’گاندھی ‘‘ کے نام کا استعمال کرتے ہوئے گمراہ کر رہی ہے۔انہو ںنے کہا کہ ’گاندھی سروور‘ کا نام دیتے ہوئے غریبوں کو بے گھر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔3