موسیٰ ندی کے اطراف ایک بھی غریب کا مکان منہدم نہیں کیا گیا: مہیش کمار گوڑ

   

موسیٰ ندی کا احیاء بی آر ایس دور کا پراجکٹ، انہدام کو بی جے پی ہندو مسلم کا رنگ دے رہی ہے
حیدرآباد ۔30۔ ستمبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے اپوزیشن پر موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کو متنازعہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ موسیٰ ندی کے اطراف موجود مکانات میں ابھی تک ایک بھی غریب کا مکان منہدم نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی ترقی سے متعلق اہم پراجکٹ میں رکاوٹ پیداکرنے کی کوششیں افسوسناک ہیں۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ حیدرآباد میں شدید بارش کی صورت میں رہائشی علاقوں کو نقصانات سے بچانے کیلئے حکومت نے موسیٰ ندی کے احیاء کا فیصلہ کیا ہے ۔ شدید بارش کی صورت میں حیدرآباد کے کئی علاقے متاثر ہورہے ہیں۔ حیدرآباد کے بہتر مستقبل کے لئے حکومت جامع منصوبہ بندی کے ذریعہ آگے بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وائینارڈ اور وجئے واڑہ کی طرح حیدرآباد میں بارش کی تباہی کو روکنے کیلئے ریونت ریڈی حکومت نے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کو منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کے تحفظ کے پراجکٹ کا بی آر ایس دور حکومت میں آغاز ہوا تھا لیکن آج وہی قائدین پراجکٹ کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضیات پر قبضہ جات ختم کرنے کیلئے حیڈرا کا قیام عمل میں آیا ۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ موسیٰ ندی کے اطراف موجود غریبوں کے مکانات اور جھونپڑیوں میں ایک بھی منہدم نہیں کی گئی ۔ حیڈرا کو نشانہ بناتے ہوئے بی آر ایس سیاسی مقصد براری کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد غریبوں کو بے گھر کرنا نہیں ہے بلکہ انہیں متبادل مکانات فراہم کئے جارہے ہیں۔ حیدرآباد کو عالمی شہر کے طور پر ترقی دینے کے لئے شروع کردہ پراجکٹ کو 90 فیصد عوام کی تائید حاصل ہے۔ حیدرآباد کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کیلئے حکومت اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کے ٹی آر نے ریاستی وزیر کی حیثیت سے اسمبلی میں موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے بارے میں بیان دیا تھا۔ اب جبکہ کانگریس حکومت پراجکٹ پر عمل پیرا ہے تو اس کی مخالفت افسوسناک ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بی آر ایس دور حکومت میں کئی پراجکٹس کے لئے اراضیات جبراً حاصل کی گئیں۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ سوشیل میڈیا کے ذریعہ بی آر ایس اور بی جے پی حکومت کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں کسی زمانہ میں 3500 جھیل موجود تھے لیکن آج بیشتر جھیل غیر مجاز قبضہ کا شکار ہوچکے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بی آر ایس نے انتخابی منشور میں موسیٰ ندی کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا لیکن اقتدار سے محرومی کے فوری بعد موقف تبدیل کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کے اطراف موجود آبادیوں کو منتقل کرنے کا مقصد موسیٰ ندی کے احیاء کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں میں حکومت سے تعاون کریں۔ صدرپردیش کانگریس نے خاتون وزراء کے خلاف بی آر ایس سوشیل میڈیا سیل کی جانب سے توہین آمیز مہم پر برہمی کا اظہار کیا اور انتباہ دیا کہ اگر یہ سلسلہ بند نہیں کیا گیا تو عوام خود جواب دیں گے۔ مہیش کمار گوڑ نے بی جے پی پر مذہبی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی کو ہندو مسلم کا رنگ دینا شرمناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہدامی کارروائی سے مذہب کا کیا تعلق ہے۔ بی جے پی قائدین مذہبی سیاست کے ذریعہ فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ 1