300 رائے دہندوں نے ووٹ دیا، 36 ووٹ مسترد، بار کونسل زمرہ میں قرعہ اندازی، مولانا اکبر نظام الدین کو ریکارڈ اکثریت
حیدرآباد28 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے متولی و مینجنگ کمیٹی اور بار کونسل زمرہ جات کے تحت 3 ارکان کا آج رائے دہی کے ذریعہ انتخاب عمل میں آیا ۔ متولی و مینجنگ کمیٹی زمرہ میں مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی صابری اور ابوالفتح سید بندگی بادشاہ قادری ترجیحی ووٹ کی بنیاد پر منتخب ہوئے جبکہ بار کونسل زمرہ میں قرعہ اندازی کے ذریعہ ذاکر حسین جاوید کو وقف بورڈ کا رکن منتخب کیا گیا۔ دونوں زمرہ جات کیلئے حج ہاؤز میں رائے دہی ہوئی اور متولی و مینجنگ کمیٹی زمرہ کے 475 رائے دہندوں میں سے 300 نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ اس زمرہ کی دو نشستوں کیلئے جملہ 7 امیدوار میدان میں تھے۔ مولانا اکبر نظام الدین حسینی پہلے راونڈ سے ہی بھاری سبقت حاصل کرچکے تھے۔ 6 راونڈ کی ترجیحی بنیاد پر رائے شماری میں انہیں جملہ 211 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ بندگی بادشاہ قادری 34 ووٹ سے دوسرے نمبر پر رہے۔ مولانا اکبر نظام الدین کو پہلے راؤنڈ میں 191 ووٹ ملے اور اس کے بعد ہر راؤنڈ میں ان کی اکثریت میں اضافہ ہوا اور جملہ 211 ووٹ حاصل کرکے وہ ریکارڈ اکثریت سے کامیاب قرار دیئے گئے ۔ بندگی بادشاہ قادری کو پہلے راؤنڈ میں 28 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ دیگر 5 راؤنڈ کی گنتی کے بعد انہیں مجموعی طور پر 34 ووٹ حاصل ہوئے ۔ دیگر امیدواروں میں مسیح الرحمن ذاکر کو پہلے را ونڈ میں 10 ، مرزا انوار بیگ 12 ، مرزا شہریار بیگ 3 ، محمد خیرالحسن 2 اور منور حسین کو 18 ووٹ حاصل ہوئے تھے ۔ 36 ووٹ مسترد کردیئے گئے۔ الیکشن آفیسر ایل شرمن نے شام 5 بجے ووٹوں کی گنتی کا آغاز کیا اور 6 راؤنڈ کی گنتی کے بعد نتیجہ کا اعلان کیا گیا۔ بار کونسل زمرہ میں ایک نشست کیلئے دو امیدوار تھے ۔ ایم اے کے مقیت اور ذاکر حسین جاوید کو ایک ایک ووٹ حاصل ہوا جس کے بعد الیکشن آفیسر نے ڈرا کے ذریعہ ایک رکن کا انتخاب کیا اور ڈرا ذاکر حسین جاوید کے حق میں نکلا۔ یہ پہلا موقع ہے جب وقف بورڈ کیلئے اس قدر سخت مقابلہ دیکھا گیا۔ رائے دہی کے آغاز کے ساتھ ہی کئی رائے دہندے قطار میں نظر آئے۔ 36 ووٹ جنہیں مسترد کردیا گیا، ان میں ووٹرس نے کہیں اپنے دستخط کئے یا پھر ترجیحی ووٹ کو غلط انداز میں تحریر کیا۔ وقف بورڈ کے 6 ارکان کا رائے دہی کے ذریعہ انتخاب کیا جاتا ہے اور ارکان مقننہ زمرہ میں فاروق حسین اور کوثر محی الدین بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ زمرہ میں اسد اویسی کا بلا مقابلہ انتخاب ہوگا۔ اس طرح وقف بورڈ کیلئے 6 ارکان کے الیکشن کے ذریعہ انتخاب کا مرحلہ آج مکمل ہوگیا۔ حکومت مختلف زمروں میں پانچ ارکان کو نامزد کرے گی اور جملہ 11 ارکان میں سے کسی ایک رکن کو صدرنشین منتخب کیا جائے گا ۔ توقع ہے کہ اندرون ایک ہفتہ نئے وقف بورڈ کی تشکیل کی کارروائی مکمل ہوجائیگی۔ ر