حکومت آمدنی بڑھانے متبادل طریقہ کی تلاش میں مصروف
حیدرآباد۔11۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ میں مکانات کی خرید و فروخت کے رجحان میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور ماہ جون کے مقابلہ میں جولائی کی آمدنی میں مجموعی اعتبار سے شہر حیدرآباد میں مکانات کی خرید و فروخت سے ہونے والی آمدنی میں 26 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکومت کو مکانات کی خرید و فروخت کے ذریعہ ہونے والی آمدنی میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے بعد آمدنی میں اضافہ کے دیگر راستوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔سال گذشتہ کی آمدنی کے اعتبار سے جاریہ سال کے دوران جنوری تا جولائی میں آمدنی میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کا جائزہ لینے پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ سال 2022 میں جنوری تا جولائی کے دوران 11 ہزار 790 کروڑ کی آمدنی میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔ سال 2021میں ماہ جولائی کے دوران ریاستی حکومت کو مکانات کی خرید و فروخت سے مجموعی طور پر 45 ہزار 729کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی لیکن جاریہ سال جولائی کے دوران 21 ہزار 15 کروڑ روپئے کی آمدنی ریکارڈ کی گئی ہے۔ شہر حیدرآباد سے سال 2021میں جنوری تا جولائی کے دوران مجموعی اعتبار سے 2لاکھ 12 ہزار 19کروڑ کی آمدنی ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ سال 2022کے دوران 2 لاکھ 229 کروڑ کی آمدنی ریکارڈ کی گئی ہے۔ نائٹ رائیڈر نامی ادارہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جولائی 2022کے دوران شہر حیدرآباد میں 4313 رہائشی جائیدادوں کے رجسٹریشن کروائے گئے ہیں جو کہ گذشتہ ماہ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو 20 فیصد کم ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ 50لاکھ سے زائد قیمت کی رہائشی جائیدادوں کے رجسٹریشن میں کمی کے سبب شہر حیدرآباد میں جائیدادوں کی خرید و فروخت کے ذریعہ ہونے والی آمدنی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ماہرین کے مطابق ماہ جولائی کے دوران جائیدادوں کی خرید و فروخت کے معاملات میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ دراصل منفی سرمایہ کا ری کا نتیجہ ہے ۔جولائی کے دوران جملہ 2101 کروڑ کی جائیدادوں کی خرید و فروخت ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ 26 فیصد آمدنی میں گراوٹ کی بنیادی وجہ تصور کی جا رہی ہے۔ نائٹ رائیڈر کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کئے گئے انکشاف کے مطابق شہر حیدرآباد کے علاوہ شہر کے نواحی اضلاع رنگاریڈی ‘ میڑچل ۔ملکا جگری‘ کے علاوہ سنگاریڈی میں بھی رہائشی جائیدادوں کی فروخت میں گذشتہ ماہ کے دوران گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔م