حکومت کو انتظام سنبھالنے اور کرایہ وصول کرنے کی ہدایت ۔ تلنگانہ ہائیکورٹ کے عبوری احکام
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔3۔نومبر۔تلنگانہ میں وقف جائیدادوں کے بورڈ سے اخراج کا قانونی سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور اب تلنگانہ وقف بورڈ میں درج ایسی اوقافی جائیدادیں وقف بورڈ کے کنٹرول سے نکلنے لگ جائیں گی تلنگانہ ہائی کورٹ میں جسٹس شرون کمار نے مکہ مدینہ علاء الدین وقف ‘ علاء الدین چیریٹیزاینڈ زکواۃ وقف ‘ علاء الدین چیریٹیزوقف اور علاء الدین ایجوکیشنل انڈوومنٹ ٹرسٹ کی جانب سے دائر کردہ رٹ درخواست نمبر 30224 جو کہ 2026 میں داخل کی گئی تھی عبوری احکام جاری کرتے ہوئے مذکورہ جائیدادوں کو وقف بورڈ کے تحت موجود 452 انتہائی قیمتی تجارتی ملگیات کو حکومت کے حوالہ کرکے کرایوں کی وصولی اور علحدہ کھاتہ میں جمع کروانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں ٹرسٹ کے ذمہ داروں کی جانب سے داخل کی گئی اس رٹ درخواست میں جسٹس شرون کمار نے انتہائی اہم عبوری احکام جاری کرکے وقف بورڈ کو ان جائیدادوں کے احکامات سے علحدہ کردیا ہے ۔ عدالت نے وقف بورڈ کے خلاف دائر اس مقدمہ میں عبوری احکام جاری کرکے ٹرسٹ‘ سوسائیٹی اور دیگراداروں کے تحت موجود موقوفہ جائیدادوں کو وقف بورڈ سے خارج کرنے کی راہ ہموار کردی ہے۔ جسٹس این وی شرون کمار نے اپنے عبوری احکام میں مکہ مدینہ علاء الدین وقف کے تحت موجود 452ملگیوں کے کرایہ کی وصولی و دیگر انتظام سے وقف بورڈ کو علحدہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ ان ملگیات کا کرایہ وصول کرتے ہوئے مخصوص کھاتہ میں جمع کروائے اور مقدمہ فیصل ہونے کے بعد ہی کرایہ کی اس رقم کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی درخواست میں وقف بورڈ پر 5 سال سے زیادہ جائیداد کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے درخواست گذاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ تلنگانہ وقف بورڈ مدینہ بلڈنگ کے کرایہ داروں سے کرایہ کی وصولی میں ناکام ہوچکا ہے اور اس کے انتظامات ٹرسٹ کے سپرد کرنے میں بھی لاپرواہی کا مظاہرہ کررہا ہے ۔ درخواست گذاروں نے علاء الدین وقف میں موجود کئی 80جائیدادوں کے مقدمات جو کہ عدالتوں میں زیر دوراں ہیں ان کا بھی حوالہ دیتے ہوئے وقف بورڈ کے ساز باز کا الزام عائد کیا ۔قلب شہر میں واقع مدینہ بلڈنگ کی ان موقوفہ جائیدادوں کے سلسلہ میںوقف بورڈ کی جانب سے اسٹینڈنگ کونسل’’راکیش سانگھی ‘‘ نے پیروی کی تھی جبکہ علاء الدین ٹرسٹ کے ذمہ داروں کی جانب سے سینیئر ایڈوکیٹ مسٹر پربھاکر سری پدا نے پیروی کرتے ہوئے عبوری احکام حاصل کئے ۔اس انتہائی قیمتی جائیداد کے معاملہ میں تلنگانہ وقف بورڈ کے خلاف عدالت کے ’عبوری احکامات‘ کے بعد اب اس بات کا خدشہ پیدا ہونے لگا ہے کہ ریاست میں وقف بورڈ کے تحت موجود ٹرسٹ‘ سوسائیٹی اور خیراتی اداروں کی جائیدادیں وقف مرممہ قوانین 2025 کے حوالہ سے رٹ درخواستیں دائر کرتے ہوئے اپنی جائیدادوں کو وقف بورڈ کے اندراج سے خارج کروالیں گے۔