ہوم گارڈس اور چوکیداروں کی عدم تعیناتی ، مساجد میں کتوں کے غول سے مصلیان پریشان
حیدرآباد۔4۔اگسٹ(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروںکی نگرانی میں موجود شہر حیدرآباد کی دو اہم تاریخی مساجد کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کی جانے والی نمائندگیاں مسلسل بے اثر ثابت ہورہی ہیں اور حرکیاتی اراکین اسمبلی کی جانب سے متعدد مرتبہ مسئلہ اٹھائے جانے کے باوجود بھی دونوں مساجد میں خدمات انجام دینے والے ملازمین اور مساجد کے زیر التواء کام مکمل نہیں کروائے جاسکیں ہیں۔ تاریخی مکہ مسجد میں جہاں ریاستی حکومت کی جانب سے مسجد کی نگرانی کیلئے 25 ہوم گارڈس تعینات کئے گئے ہیں اور ان میں 14 ہوم گارڈس خدمات انجام دے رہے ہیں وہیں دوسری مسجد شاہی مسجد باغ عامہ میں خدمات انجام دینے والے سیکوریٹی عملہ کی خدمات کو محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے برخواست کردیا گیا ہے۔ اسی طرح دونوں مساجد کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے لئے کی جانے والی نمائندگیوں کے باوجود دونوں مساجد کے عملہ کی خدمات کو آؤٹ سورس کیا جاچکا ہے حالانکہ ریاستی حکومت کی جانب سے اکثریتی طبقہ کی عبادتگاہوں میں خدمات انجام دینے والے مذہبی پیشوا و ملازمین کو سرکاری ملازمین کے مساوی حقوق اور تنخواہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ شاہی مسجد باغ عامہ کے صحن میں شیڈ کی تعمیر کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے بعد ان کاموں کی تکمیل عمل میں لائی گئی ہے لیکن ان کاموں کو مکمل کرنے والے کنٹراکٹر کے بل کی اجرائی میں کی جانے والی تاخیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبودکے عہدیداروں کو ان مساجدکے امور سے کس قدر دلچسپی ہے! شاہی مسجد باغ عامہ میں نماز فجر کے لئے پہنچنے والے مصلیوں میں خوف کی صورتحال پائی جانے لگی ہے کیونکہ مسجد میں کوئی چوکیدار یا سیکوریٹی نہ ہونے کے سبب رات کے اوقات میں آوارہ کتے مسجد کے صحن کے مختلف حصوں میں غول کی شکل میں جمع رہنے لگے ہیں اور صبح کی اولین ساعتوں میں نماز فجر کے لئے پہنچنے والے مصلیوں پر حملہ آوری ہورہے ہیں۔ مسجد کے انتظامی امور کے ذمہ داروں کو اس بات سے واقف کروائے جانے کے باوجود چوکیداروں کی تعیناتی کے سلسلہ میں تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں اور نہ ہی ان مسائل کے حل کے لئے پیشرفت کی جار ہی ہے بلکہ دونوں مساجد کے مسائل کو محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی جانب سے نظرانداز کیا جانے لگا ہے اور دونوں مساجد میں خدمات انجام دینے والے عملہ کو صحافت سے رجوع ہونے پر سنگین نتائج کا انتباہ دیا جا رہاہے۔م