مکہ مسجد کی تاریخی اور نایاب گھڑی 8 سال بعد کارکرد

   

رپیرنگ میں کافی دشواریاں، سالار جنگ میوزیم گھڑی سے مماثلت
حیدرآباد۔/7 فروری، ( سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد کی ایک قیمتی اور نایاب گھڑی جو تقریباً 100 سال سے زائد عرصہ سے مسجد کی زینت میں اضافہ کررہی تھی وہ گذشتہ 8 برسوں سے بند تھی اور اس کی رپیرنگ کے بعد اسے کارکرد بنادیا گیا۔ مکہ مسجد کی اس نایاب گھڑی کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ یہ فرانس کی فیورلوبا کمپنی کی یہ گھڑی 1850 میں تیار کردہ ہے ۔ سلطنت آصفیہ کے چوتھے نظام نواب ناصر الدولہ نے فرانس سے اس گھڑی کو منگوایا تھا اور اسے مکہ مسجد میں لگایا گیا۔1948 کے بعد جب مکہ مسجد اور شاہی مسجد کا انتظام کمشنر انڈومنٹ کے تحت کیا گیا تو گھڑی کے مینٹننس کی ذمہ داری بھارت واچ کمپنی کو دی گئی۔ 1972 سے 1982 تک یہ ذمہ داری برقرار رہی۔ 1982 میں اس وقت کے کمشنر پولیس وجئے راما راؤ کی سفارش پر مینٹننس کا کام واحد واچ کمپنی کو دیا گیا۔ واحد واچ کمپنی کے سکندر خاں اور بھارت واچ کمپنی کے ونود شنڈے دونوں کی مشترکہ مساعی کے نتیجہ میں 8 سال سے بند یہ تاریخی گھڑی دوبارہ کارکرد ہوچکی ہے۔ سالار جنگ میوزیم میں واقع تاریخی گھڑی اور مکہ مسجد کی گھڑی دونوں کی بناوٹ اور مشنری یکساں بتائی جاتی ہے۔ چارمینار کی تاریخی گھڑی 2014 میں بند ہوگئی اور اس کی رپیرنگ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ 8 برس گذرنے کے بعد سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد عبدالقدیر صدیقی نے واحد واچ کمپنی سے ربط قائم کیا۔ گھڑی کے معائنے کے بعد چلا کہ اس کے اہم پرزے گھس چکے ہیں اور اس کی مرمت ممکن نہیں ہے۔ نئے پرزوں کی تلاش کیلئے ممبئی، گوالیار اور جئے پور جانا ضروری ہے۔ اس گھڑی کے اسپیر پارٹس نئے دستیاب نہیں لہذا اس طرح کی قدیم گھڑی کے پرزوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کئی ماہ کی جدوجہد کے بعد واحد واچ کمپنی نے گھڑی کو کارکرد بنادیا اور گذشتہ دنوں اسے دوبارہ مسجد میں نصب کردیا گیا۔ یہ نادر و نایاب گھڑی مسجد کی خوبصورتی میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر دوبارہ مشنری میں کچھ خرابی آئے تو پھر پرزوں کی تبدیلی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ رپیرنگ کاموں کے بلز کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی جارہی ہے۔ اسی دوران پرنس عظمت جاہ بہادر نے سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد ایم اے قدیر صدیقی کو شخصی طور پر مکتوب روانہ کرتے ہوئے آصف ثامن نواب مکرم جاہ بہادر کی تدفین کے سلسلہ میں انتظامات اور تعاون پر اظہار تشکر کیا۔ چومحلہ پیالیس کے لیٹر ہیڈ پر انگریزی میں یہ مکتوب لکھا گیا ہے جس پر پرنس عظمت جاہ نے انگریزی میں دستخط کئے۔ر