کانگریس لیڈر نسیم خان کی وزیر داخلہ دلیپ ولسے پاٹل سے ملاقات اور فیس معاف کرنے کا مطالبہ
ممبئی: عبادت گاہوں خصوصاً مساجد کے لاوڈاسپیکر کے استعمال سے متعلق حکومتی اجازت نامہ سے پیداشدہ صورتحال میں آج سابق وزیر و ریاستی کانگریس کے کارگزارصدر نسیم خان نے مہاراشٹرا کے وزیر داخلہ دلیپ ولسے پاٹل سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ مساجد کو ماہانہ بنیاد پر دیاجانے والا اجازت نامہ سالانہ بنیاد پر دیا جائے نیز اس کی مکمل فیس معاف کی جائے ۔ نسیم خان نے وزیرداخلہ کو بتلایا کہ ممبئی میں عبادت گاہوں میں استعمال ہونے والے لاوڈاسپیکر سے متعلق چونکہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم کی پابندی کررہی ہے جس کے تحت اجازت لینا ضروری ہے ۔ عبادت گاہوں خصوصامساجد کے ذمہ داران نے اجازت نامے حاصل کرلئے ہیں جو ماہانہ بنیاد پر دیا جارہا ہے اور جس کے لئے ماہانہ پونے سات سوروپئے کی فیس وصول کی جارہی ہے ۔ عبادت گاہوں کا انتظام چونکہ عوامی تعاون سے کیا جاتا ہے اس لئے ماہانہ اجازت نامہ حاصل کرنا اور ہرماہ اس کی فیس اداکرنا بہت سی عبادت گاہوں خصوصاً مساجد کے لئے نہایت مشکل امر ہے ۔انہوں نے وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ ماہانہ بنیاد پر دیا جانے والا یہ اجازت نامہ سالانہ بنیاد پر دیا جائے نیز اس کی فیس جوتقریباً 8 ہزار روپئے ہوتی ہے ، وہ معاف کی جائے ۔دلیپ ولسے پاٹل نے اس تعلق سے مثبت کارروائی کا یقین دلایا ریاست کے پاورلوم شہر مالیگاوں کے تعلق سے بھی کئے گئے ایک مطالبے پر بھی انہوں نے کانگریس لیڈر کو تسلی بخش جواب دیا جس میں نسیم خان نے وزیر داخلہ کو بتلایا کہ گزشتہ چند ماہ قبل تریپورہ میں مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بند طریقوں سے کئے گئے حملوں کے خلاف مالیگاوں میں مظاہروں کے دوران 60 سے زائد مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا جن پر تعزیرات ہند کی سخت دفعات عائد ہیں جس کے سبب ایک طویل عرصے سے وہ جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور انھیں ضمانت نہیں حاصل ہو رہی ہے نسیم خان نے کہا کہ ان مظاہرین پر عائد سخت دفعات کو ہٹایا جاے تاکہ انکی رہائی کا راستہ ہموار ہوسکے ۔