پربھنی میں ہندوؤں کی تقریب کیلئے 60 ایکڑ زمین استعمال کرنے کیلئے دی
پربھنی( مہاراشٹرا):مہاراشٹر کے ضلع پربھنی میں ایک مسلم خاندان نے ہندوؤں کا دل جیت لیا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی شاندار مثال پیش کی۔ مسلم خاندان نے پانچ روزہ ہندو مذہبی تقریب کے انعقاد کیلئے اپنی 60 ایکڑ اراضی کے استعمال کی اجازت دے کر علاقہ میں بھائی چارہ، محبت، ہندو مسلم اور قومی یکجہتی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ پربھنی کی فرقہ وارانہ تشدد کی تاریخ انتظامیہ کو مشکلات میں ڈالتی رہی ہے، لیکن اس واقعہ نے سماج میں اچھا تاثر پیش کیا ہے۔جب سید خاندان نے سنا کہ شیو سینا کے ایم پی سنجے جادھو شیو پورن کتھا کے انعقاد کے لیے ایک کھلی زمین کی تلاش میں ہیں، تو انھوں نے رضاکارانہ طور پر کچھ دنوں کے لیے اپنی زمین دینے کو کہا۔ جس کے بعد نہ صرف پانچ دن کے لیے زمین مفت میں استعمال کیلئے دی بلکہ یہاں تہوار بھی منایا گیا ہے۔ ان کے اشارے کی وجہ سے آج شیو پورن کتھا کا آغاز ہوا۔ان کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک 25 سالہ سید شعیب نے میڈیا کو بتایا کہ آج تک فرقہ وارانہ پولرائزیشن ملک کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ہمارے قدم کا مقصد بے لوث طریقے سے مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان خلیج کو ختم کرنا ہے۔ مذہبی تقریب کے لیے دی گئی زمین سیدوں کی ملکیتی زمینوں میں سے ایک ہے۔ شعیب کے والد ابوبکر بھائی جان نے کہا کہ پربھنی کے ایم پی کی قیادت میں منتظمین پربھنی شہر کے آس پاس میں کھلی زمین تلاش کر رہے تھے لیکن کھڑی فصلوں کی وجہ سے وہ نہیں مل سکی۔ جب کسی نے یہ جاننے کے لیے ہم سے رابطہ کیا کہ آیا مذہبی تقریب کے انعقاد کے لیے کرائے پر کوئی کھلی زمین دستیاب ہے تو ہم نے انہیں اپنی زمین مفت میں دے دی۔انہوں نے کہا کہ اس زمین پر بویا گیا تور اور سبز چنا گھر میں استعمال کرنے، فارم میں کام کرنے والے عملے کے ساتھ ساتھ فارم میں مویشیوں اور گھوڑوں کے لیے ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پربھنی نے ماضی میں فرقہ وارانہ جھڑپیں دیکھی ہیں اور اس اشارہ کے پیچھے ان کا مقصد مختلف برادریوں کے درمیان خلیج کو ختم کرنا ہے۔