میرا نوبیل انعام بین الاقوامی جرائم کا نشانہ بننے والوں کو وقف

   

جنوبی افریقی قانون داں نوی پلے کی جرمنی کے شہر نیورمبرگ کے تاریخی کمرہ عدالت میں پریس کانفرنس

برلن :11 اکٹوبر ( ایجنسیز ) جنوبی افریقی قانون دان نَوی پِلّے، جنہیں 2026 کا نوبل امن انعام دیا گیا، نے یہ اعزاز عالمی جرائم کا نشانہ بننے والوں کے نام کیا اور عالمی رہنماؤں سے بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔پلے نے جمعہ کو جرمنی کے شہر نیورمبرگ میں تاریخی کمرہ عدالت جہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد نازی رہنماؤں پر مقدمہ چلایا گیا تھا، میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ، ’’میں یہ ایوارڈ بین الاقوامی جرائم کا نشانہ بننے والے تمام افراد کے لیے وقف کرتی ہوں۔‘‘85 سالہ ایوارڈ یافتہ نے کہا کہ یہ مقام اس لیے خاص معنی رکھتا ہے کہ انہیں اسی مقامِ عدالت اس انعام کے بارے میں اطلاع ملی۔پیلّے، جنہوں نے بین الاقوامی انصاف کے میدان میں دہائیوں تک کام کیا ہے، نے خبردار کیا کہ قانونی ادارے اور انسانی حقوق کے تحفظات بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ”ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جب بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق شدید سیاسی حملوں کی زد میں ہیں، انہوں نے خاص طور پر بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر تنقید کی طرف اشارہ کیا۔”یہ حقیقت خاص طور پر بین الاقوامی فوجداری عدالت پر ہونے والے حملوں میں واضح ہے۔”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ICC کے رکن ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کی رکنیت سے دستبردار ہو جائیں اور اس ادارے کو ایک ‘باغی ادارہ’ قرار دیا تھا۔پیلّے نے سیاسی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داریاں احترام سے نبھائیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو بین الاقوامی تحفظات کو کمزور کریں۔انہوں نے کہا”میرا سیاسی رہنماؤں کو یہ پیغام ہے کہ آپ کی قانونی ذمہ داری ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ کریں اور جنگوں سے باز رہیں۔”