حمید احمدیہ
قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران حیدرآباد
28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا آغاز ہوا، جس کے دوران جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میںواقع میناب اسکول، یعنی شجر طیبہ ایلیمنٹری اسکول پر ایک انتہائی تباہ کن حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں 168 طلبہ، بچوں اور ان کے اساتذہ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان میں بڑی اکثریت تقریباً 7 سے 12 سال کی عمر کی طالبات پر مشتمل تھی۔ یہ واقعہ ریکارڈ شدہ تاریخ میں ایک ہی حملے میں شہریوں کی ہلاکت کے سب سے ہلاکت خیز واقعات میں سے ایک ہے۔ایک ہی روز حملوں کا تسلسل اور متعدد حملوں کے شواہدآزادانہ تحقیقات، سیٹلائٹ تصاویر، تصدیق شدہ ویڈیوز، جغرافیائی محلِ وقوع کی تصدیق اور عینی شاہدین کے بیانات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسکول کو اسی روز متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔
صبح کا مرحلہ
تقریباً صبح 10-45 بجے ایرانی معیاری وقت (IRST)، اسکول میں کلاسیں جاری تھیں۔ ایران میں ہفتہ اسکول کا تدریسی دن ہوتا ہے۔ مختصر وقفے میں متعدد حملے کیے گئے۔عینی شاہدین اور ہلالِ احمر کے طبی امدادی کارکنوں کے مطابق، پہلے حملے کے بعد پرنسپل نے زندہ بچ جانے والے طلبہ کو نماز ہال میں منتقل کیا اور والدین کو بچوں کو لے جانے کے لیے فون کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد دوسرا حملہ اسی علاقے میں ہوا، جس میں پناہ لینے والے متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔ایرانی حکام اور بعض رپورٹس نے اسے’’ٹرپل ٹیپ‘‘قرار دیا۔ ماہرین کے تجزیوں، جن میںبی بی سی ویریفائی، بیلنگ کیٹ، سی بی سی، فارنزک آرکیٹیکچر اور دیگر ادارے شامل ہیں، نے تصدیق شدہ ویڈیو میں نظر آنے والے ہتھیار کی شناخت ایکامریکی ٹوماہاک کروز میزائل کے طور پر کی ہے۔ اس نوعیت کے استعمال کے لیے اس ہتھیار کا حامل ملک صرف امریکہ ہی جانا جاتا ہے۔اسکول کے مختلف حصوں میں حملوں سے بننے والے گڑھے بھی دستاویزی طور پر ریکارڈ کیے گئے، جن میں ایک طبی مرکز بھی شامل تھا جہاں زخمی بچوں کو لایا جارہا تھا۔
بین الاقوامی قانون کے پہلو
امتیاز کے اصول کے تحت جنگجوؤں کے لیے فوجی اور شہری اہداف میں فرق کرنا ضروری ہے۔ تناسب کے اصول کے تحت متوقع شہری نقصان، حاصل ہونے والے ٹھوس فوجی فائدے کے مقابلے میں حد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح حملے کے دوران احتیاطی تدابیر کے تحت اہداف کی تصدیق اور شہری نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے تمام قابلِ عمل اقدامات کرنا ضروری ہیں۔بچوں کو خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ شہری تنصیبات، بشمول تعلیمی عمارتوں، کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا روماسٹیٹیوٹ کے تحت جنگی جرم قرار دیا جاسکتا ہے۔
ایسے حملے جن میں شہری آبادی کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل احتیاط نہ برتی جائے، یا جن میں زندہ بچ جانے والوں اور امدادی کارکنوں کو جان بوجھ کر یا لاپروائی کے ساتھ نشانہ بنایا جائے، جنگی جرم کے طور پر قانونی کارروائی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
یونیسکو نے میناب اسکول پر حملے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی’’سنگین خلاف ورزی‘‘قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین، اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال اور دیگر اداروں نے فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ہلاکتوں کو محض ایک’’غلطی‘‘قرار دینے سے ریاستی ذمہ داریاںیا ممکنہ انفرادی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی۔ ایرانی حکام اور بعض آزادانہ تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ اسکول واضح طور پر ایک شہری تنصیب کے طور پر قابلِ شناخت تھا، وہاں کوئی فوجی استعمال نہیں تھا، اور متعدد حملوں کا یہ انداز، بالخصوص پہلے حملے کے بعد شہریوں کے وہاں پہنچنے کے باوجود، جان بوجھ کر کیا گیا ۔
اسکولوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا وسیع تر سلسلہ
ایرانی ہلالِ احمر اور سرکاری ذرائع نے جنگ کے دوران ایران بھر میں سینکڑوں تعلیمی مقامات، جن میں اسکول، جامعات اور متعلقہ تنصیبات شامل ہیں، کو نقصان پہنچنے یا تباہ ہونے کی اطلاعات دی ہیں۔ 1,200 سے زائد تعلیمی مراکز سے متعلق مقامات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں سے 20 مکمل طور پر تباہ ہوگئے، جبکہ بڑی تعداد میں شہری بنیادی ڈھانچے، طبی مراکز، ثقافتی مقامات، جامعات اور تحقیقی مراکز بھی متاثر ہوئے۔ دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی حکومت کی افواج نے سینکڑوں اسکولوں کی عمارتوں کو نشانہ بنایا، جن میں سے بہت سے بے گھر شہریوں کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہورہے تھے۔ غزہ میں اسکولوں پر بعض حملوں میں امریکی ساختہ اسلحے کی بھی شناخت کی گئی ہے۔ تباہی اس قدر شدید تھی کہ متعدد لاشیں صرف جسمانی اعضاء کی صورت میں برآمد ہوئیں اور ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنا پڑا۔ ایک انتہائی دلخراش واقعے میں سات سالہ پہلی جماعت کے طالب علم مکان نصیری کی کئی ماہ تک جاری رہنے والی شدید تلاش، ملبہ ہٹانے اور بار بار ڈی این اے ٹیسٹ کے باوجود کوئی قابلِ بازیافت باقیات نہیں مل سکیں۔ نتیجہ میزائل کے ملبے، سی سی ٹی وی فوٹیج، سیٹلائٹ تصاویر اور اسلحہ کے ماہرین کے تجزیوں کی بنیاد پر ٹوماہاک میزائل کی شناخت کی تصدیق ہوتی ہے۔ شہری ہلاکتوں کی تعداد —120 اسکولی بچے، 26 اساتذہ اور دیگر شہداء اور ایک فعال پرائمری اسکول پر متعدد حملوں کے دستاویزی تسلسل نے ایرانی حکام اور متعدد مبصرین کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔