l ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کرنے والے مسلم طلباء میں ایوارڈس کی تقسیم
l دفتر سیاست میں منعقدہ تقریب سے رکن کونسل جناب عامر علی خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد20اکٹوبر(سیاست نیوز) والدین دنیا کا عظیم ترین تحفہ ‘ والدین کی خدمت کرنے سے دنیا میںکامیابی اور آخرت میںسرخروئی مقدر بن جائیگا۔ والدہ کے پیروں کے نیچے جنت اور والد جنت کا دروازہ ہیں۔ کامیابی اگر مقصود ہے تو والدین کی خدمت کو ترجیح دیں۔ان خیالات کا اظہار رکن قانون ساز کونسل اور نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان نے کیا جو ادارے سیاست اور ایم ایس ایجوکیشنل اکیڈیمی کے زیر اہتمام جاریہ سال 2024نیٹ اسکور کے ذریعہ ’’ایم بی بی ایس ‘‘ کے زمرہ اے میں کامیاب810سے زائد مسلم اسٹوڈنٹس جو گورنمنٹ ‘ خانگی میناریٹی او رنان میناریٹی کالجوں میںداخلہ حاصل کرنے میںکامیاب ہوئے ہیں ان کے اعزاز میں منعقدہ ایوارڈ تقریب سے اپنا صدارتی خطاب میں کیا۔ ڈائرکٹر ایم ایس ایجوکیشنل سوسائٹی محمد معظم حسین ‘ اکیڈیمک ڈائرکٹر ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی غوث الدین نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا۔ کنونیر اور ماہر تعلیمات اے ایم حمید نے نہ صرف تقریب کی کاروائی چلائی بلکہ میڈیسن میں سیٹ حاصل کرنے کے لئے اسٹوڈنٹس کو جس مشقت کا سامنا کرناپڑتاہے اس پر بھی روشنی ڈالی۔ اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے جناب عامر علی خان نے نیٹ کے تمام زمروں میںکامیاب ہونے اور میناریٹی او رنان میناریٹی میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے والے تمام طلبہ وطالبات اور ان کے والدین ‘ سرپرستوں اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ طب ( میڈیکل) ایک مقدس پیشہ ہے اگر اس پیشہ میں دولت کمانے کی جستجو یقینا ایک ڈاکٹر کودولت مند بنائے گئے مگر شہرت سے وہ محروم رہیں گے۔ انہوں نے اس موقع پرڈاکٹر سدھیر نائیک ( ماہر امراض قلب )کی مثال پیش کی او رکہاکہ وہ آج شہر ت کی بلندیوں پر ہیں کیونکہ دولت کمانے کو انہوں نے ترجیح نہیں دی اور یہی وجہہ ہے کہ وہ نہ صرف ماہر ڈاکٹر ہیںبلکہ مریض کی نفس پکڑ کر مرض بتانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔جناب عامر علی خان نے کہاکہ آج سرکاری محکموں میں مسلمانوں کی نمائندگی کی کمی ہے ۔ ہمارے نوجوانوں میں سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کا رحجان کم ہوگیاہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ میڈیسن یا کسی اور شعبہ میں تعلیم حاصل کرنے والے لڑکے او رلڑکیوں کو اس بات کا انداز ہ ہونا چاہئے کہ وہ میڈیکل یا انجینئر نگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی یو پی ایس سی امتحانات کا حصہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ بالخصوص میڈیسن کے طلبہ وطالبات کے لئے یہ سنہری موقع ہے ۔ کیونکہ جہاں انہیںمیڈیسن کی جانکاری ہوتی ہے وہیں اس دوران انہیں جنرل نالج سے بھی اچھی وقفیت ہوجاتی ہے۔ جناب عامر علی خان نے کہاکہ تلنگانہ میں ایک سنہری موقع ٹی ہب ہے جس کے متعلق میرا خود یہ گمان تھا کہ یہاں پر صرف ٹکنالوجی کی بات ہوتی ہے مگر ٹی ہب سے تاحال سینکڑوں کی تعداد میںفارما کمپنیاں بھی جوڑی ہوئی ہیں۔ٹی ہب سے ہمارے نوجوان لڑکوں اور لڑکیو ںکو استفادہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ اس طرح کے معلومات کی کمی کے سبب مسلم معاشرہ ایس سی طبقے سے بھی پیچھے ہے۔ جناب عامرعلی خان نے کہاکہ پیشہ وار تعلیم حاصل کرنے والے تمام نوجوان لڑکوں او رلڑکیو ںپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو بدنام کرنے والی تمام سازشوں کا مدلل جواب اپنے پیشہ کی مہارت اور پیشہ میںمقام او رنام حاصل کرکے دیں۔ انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصدحیات بنائیں۔انہوں نے قانونی وقفیت پر بھی زوردیا او رکہاکہ امریکہ میں فی الحال اسپتالوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا رحجان عام ہے اور یہ رحجان ہندوستان تک پہنچنے میںدیر نہیں لگے گی ۔انہو ںنے میڈیسن کے طلبہ وطالبات کو قانون سے واقفیت کابھی مشورہ دیا۔ انہوں نے ایوارڈکے لئے منتخب تمام طلبہ وطالبات کے لئے نیک تمنائو ں کا اظہار اور مستقبل میںمزید کامیابیاں حاصل کرنے لئے دعابھی دی۔معظم حسین ڈائرکٹر ایم ایس ایجوکیشنل اکیڈیمی نے اپنے خطاب کے ذریعہ مسلم نوجوانوں میںبڑھتے تعلیمی رحجا ن کی ستائش کی ۔ انہوں نے کہاکہ ہر سال لڑکیوں کی کامیابی کا تناسب زیادہ رہتا تھا مگر اس مرتبہ 1/3کے تناسب سے لڑکوں نے بھی کامیابی حاصل کی ہے اور امید ہے کہ آئندہ سالوں میں یہ مساوی ہوجائیگا۔معظم حسین نے کہاکہ سرکاری میڈیکل کالجوں میںبھی ہمارے نوجوانوں کے داخلے کم ہوتے تھے مگر اس سال میڈیکل اسٹوڈنٹس نے صورتحال ہی بدل دی اور اس مرتبہ دس فیصد سے زائد مسلم اسٹوڈنٹس کو سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلہ ملا ہے جو مسلمانوں کے تعلیمی رحجان میںتبدیلی کی ایک نمایاں پہچان ہے۔ انہوںنے کہاکہ مسلمانوں میں تعلیمی رحجان پیدا کرنے اور ملت کے نوجوانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوششوں میںادارے سیاست کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیاجاسکے گا۔مسلمانوں کے لئے کئی ادارے کام کررہے ہیں ان میںایم ایس ایجوکیشنل اکیڈیمی بھی ہے اور اب تک ایس ایم نے 2ہزارڈاکٹرس ملت کو دئے ہیں جبکہ 2036تک 10ہزار ڈاکٹرس کی فراہمی ایم ایس ایجوکیشنل سوسائٹی کا ہدف ہے۔انہوں نے بحیثیت کیر یئر کونسلر ایم اے حمید کی بھی ستائش کی ۔ اکیڈیمک ڈائرکٹر ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی غوث الدین نے اپنی تقریر میںتقریب میںموجود طلبہ وطالبات سے اپنے بہتر مستقبل میںکمیونٹی کو بھی شامل رکھنے کا عہد لینے کا مشورہ دیا ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم سماج کے تعلیمی میدان میںخلاء کی اہم وجہہ قابل او رباصلاحیت نوجوانوں کا اپنی ترقی کو فرد تک محدود رکھنا ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ اس ترقی میں معاشرے کو اگر شامل کرتے ہیںتو یقینا جوخلاء پیدا ہوا ہے وہ تیزی کے ساتھ بھر جائیگا۔ انہوں نے نیٹ2024کے ذریعہ میڈیسن کی سیٹیں حاصل کرنے والے کامیاب طلبہ وطالبات کو یہ بھی مشورہ دیاکہ وہ آخرت میںجواب دہی کی فکر کے ساتھ آگے بڑھیں اور سماج میں تعلیمی پسماندہ لوگوں کا سہارا بنیں۔انہوںنے کامیاب طلبہ وطالبات سے کہاکہ وہ ان کالجوں میںجائیں جہاں پر ہماری قوم کے بچے زیر تعلیم ہیں ۔ انہیں حوصلہ دیں ‘انہیں وہ تمام مشقتوں اور کاوشوں سے روشناس کروائیں جس پر عمل کرکے آپ یہاں تک پہنچے ہیں۔انہوں نے سرکاری میڈیکل کالجوں میںمسلم طلبہ وطالبات کے بڑے پیمانے پر داخلوں کو خوش آئند قراردیا ۔ انہوں نے مسلم معاشرے کے لئے اس کو ایک بڑی تبدیلی قراردیا۔ماہر تعلیم کیر ئیر کونسلر ایم اے حمید نے بتایاکہ کس طرح ادارے سیاست کی جانب سے نیٹ کی فری کوچنگ کلاسیس چلائی جاتی اور میڈیسن و انجینئرنگ اسٹوڈنٹس کے لئے نیٹ اور ایمسیٹ کے تمثیلی امتحانات منعقد کئے جاتے ہیں۔