حکومت کی مجرمانہ غفلت سے ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کی 520 نشستیں خطرہ میں : ہریش راؤ
حیدرآباد ۔ 25 مئی (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق وزیرصحت ٹی ہریش راؤ نے تلنگانہ ریاست تشکیل کے 10 سال مکمل ہونے کے پیش نطر طبی تعلیمی اداروں کے داخلوں میں کنوینر کوٹہ کی نشستیں صدفیصد تلنگانہ کے طلبہ کو حاصل کرنے کیلئے ضروری اقدامات کرنے کا کانگریس حکومت سے مطالبہ کیا۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ جون کے تیسرے ہفتہ میں داخلوں کا عمل شروع ہوگا، جس کے پیش نظر حکومت فوری ردعمل کا اظہار کریں۔ طبی تعلیمی اداروں کے کنوینر کوٹہ میں تلنگانہ کے مقامی طلبہ کو صدفیصد نشستیں حاصل کرنے کے اقدامات کریں بصورت دیگر تلنگانہ کے طلبہ کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل سے قبل علاقہ تلنگاہن میں 20 میڈیکل کالجس تھے جس میں 2850 نشستیں تھی جس میں کمپٹنٹ اتھاریٹی کوٹہ کے 1900 نشتیں ہیں، اس میں 15 فیصد غیرمختص کوٹہ کے تحت 280 نشستوں سے تلنگانہ کے طلبہ محروم ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ نمس کے بشمول دیگر میڈیکل کالجس میں تقریباً 150 پی جی نشستوں سے محروم ہوجائیں گے۔ حکومت کی جانب سے مجرمانہ غفلت کی گئی تو تلنگانہ کے طلبہ 520 ایم بی بی ایس اور ایم ڈی نشستوں سے محروم ہوجائیں گے۔ ہریش راؤ نے تلنگانہ طلبہ کے مفادات کا تحفظ کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ کانگریس حکومت کی خاموشی سے طلبہ اور ان کے سرپرستوں میں بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام کو مؤثر طبی سہولتیں فراہم کرنے اور ہر ایک ضلع میں میڈیکل کالج قائم کرنے کیلئے کے سی آر کے دورحکومت میں بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل سے قبل یہاں سرکاری و خانگی جملہ 20 میڈیکل کالجس تھے اور ان میڈیکل کالجس میں 2850 ایم بی بی ایس کی نشستیں تھی۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دورحکومت میں میڈیکل کالجس کی تعداد بڑھ کر 56 اور ایم بی بی ایس نشستوں کی تعداد بڑھ کر 8340 تک پہنچ گئی۔2