میں نے نلسار یونیورسٹی آف لا ء کا دعوت نامہ قبول ہی نہیں کیا

   

کانوکیشن میں شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ چیف جسٹس آف انڈیا کی وضاحت
حیدرآباد۔17۔اگسٹ(سیاست نیوز) چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے ’نلسار‘ یونیورسٹی کانووکیشن میں شرکت سے متعلق واضح کردیا کہ ان کے ’نلسار‘ یونیورسٹی کانووکیشن میں شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔نلسار یونیورسٹی طلبہ اوربار کونسل آف انڈیا کے تنازعہ کے درمیان چیف جسٹس نے واضح کیا کہ انہوں نے ’نلسار‘ یونیورسٹی کانووکیشن میں شرکت کے دعوت نامہ کو قبول ہی نہیں کیا تو اس پروگرام میں شرکت کا کوئی سوال ہی نہیںہے۔ نلسار یونیورسٹی کانووکیشن میں چیف جسٹس کو مدعو کرنے کی روایت رہی ہے لیکن اگسٹ کے اواخریا ستمبر کے اوائل میں مجوزہ کانووکیشن میں چیف جسٹس کو مدعو کرنے پر طلبہ کی مخالفت کے بعد تنازعہ اور بار کونسل کے مکتوب کے بعد حالات نے ’نلسار‘ یونیورسٹی کانووکیشن کو مزید سرخیوں میں لادیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کے بیروزگار نوجوانوں کے خلاف ریمارکس اور 20جولائی کو طلبہ کے ’چلوسنسد‘ مارچ میں پولیس مظالم پر مقدمہ کی سماعت کے دوران ریمارکس پر مشتعل احتجاجی طلبہ نے نلسار انتظامیہ کو مکتوب روانہ کرکے چیف جسٹس کو مہمان خصوصی بنانے کی مخالفت کی تھی ۔ اس مکتوب پر صدرنشین بار کونسل مسٹر منن کمار مشرانے ’نلسار‘ سے کامیاب 2026بیاچ کے وکلاء کے رجسٹریشن پر ملک کی ہر ریاست میں پابندی کا فیصلہ کیا تھا لیکن چند گھنٹوں میں اس سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ۔ بعد ازاں طلبہ نے صدرنشین بی سی آئی سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا تھا جس پر منن کمار مشرا نے معذرت خواہی کرلی لیکن آج رپورٹس میں کہاگیا کہ چیف جسٹس نے ’نلسار‘ کی دعوت کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی وہ کانووکیشن میں شرکت کرنے والے ہیں۔3