،
10 جولائی (یو این آئی) کانگریس نے فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (ایف سی آر اے ) کے نئے قوانین کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اس معاملے میں کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا (سی بی سی آئی)، دانشور شہریوں اور عام عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے جمعہ کو سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ شاہ نے سی بی سی آئی کے سامنے ایف سی آر اے کو لے کر غلط معلومات دی ہیں اور حکومت کی ذمہ داری سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2020 میں مرکزی حکومت نے ایف سی آر اے قوانین کو مزید سخت بناتے ہوئے تنظیموں کی معطلی کی مدت بڑھائی، ان کی سرگرمیوں کی جانچ کیلئے مرکز کو زیادہ اختیارات دیے اور ان کے انتظامی اخراجات کی حد طے کر دی، جس سے ان کے باقاعدہ کام متاثر ہوئے ۔ وینوگوپال کا الزام ہے کہ 2026 میں حکومت نے ایف سی آر اے قانون میں ترمیم کر کے فنڈز حاصل کرنے والے اداروں کی جائیدادیں ضبط کرنے اور لائسنس خود بخود ختم کرنے جیسے التزامات لانے کی کوشش کی تھی۔ بڑے پیمانے پر مخالفت کے بعد ان ترامیم کو واپس لیا گیا لیکن بعد میں انہیں قوانین کے ذریعے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے قوانین کے تحت تنظیموں کے دائرہ کار اور جغرافیائی حدود میں تبدیلی پر روک لگانے اور نظریاتی بنیادوں پر ان کی جانچ کرنے جیسے التزامات بھی کیے گئے ہیں۔کانگریس کے جنرل سکریٹری نے دعویٰ کیا کہ سال 2010 میں ترقی پسند اتحاد (یو پی اے ) حکومت کی طرف سے بنائے گئے ایف سی آر اے قانون میں ایسے التزامات نہیں تھے ۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے ایف سی آر اے کے نئے قوانین فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔