حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڑچل میں اسکولس تک سپلائی کیلئے جنگی خطوط پر اقدامات
حیدرآباد۔3 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ کے محکمہ تعلیم نے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر طلبہ کو بغیر کسی تاخیر کے نئی نصابی کتب فراہم کرنے کا ایک اہم اور بڑا ہدف مقرر کیا ہے۔ حکومت کی نئی حکمت عملی کے تحت درسی کتب کی تقسیم کا عمل تیزی سے شروع کردیا گیا ہے تاکہ ریاست کے تمام اسکولس کو 2 جون تک لازمی طور پر کتابوں کا اسٹاک موصول ہو جائے۔ اس مشن کو پورا کرنے کیلئے اضلاع حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڑچل کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرس اور منڈل ایجوکیشن آفیسرس گوداموں سے کتابوں کی منتقلی کے کاموں میں 24 گھنٹے مصروف ہیں۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ اس بار تعلیمی نصاب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور ماضی کی طرح چھٹی سے دسویں جماعت کے طلبہ کو دولسانی (Bilingual) نصابی کتابیں فراہم کی جائیں گی۔ محکمہ تعلیم اس بار درسی کتب کی کوالٹی اور پرنٹنگ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ تعلیمی سال 2024 میں چند نصابی کتابوں میں ٹائیوگراویکل (کمپوزنگ) اور پرنٹنگ کی سنگین غلطیاں سامنے آئی تھیں جس کے باعث ان کتابوں کو تبدیل کرکے نئی کتابیں چھپوانی پڑی تھیں اور طلبہ تک کتابوں کی فراہمی میں ایک ہفتے کی تاخیر ہوئی تھی۔ ماضی کے اس تلخ تجربے سے سبق حاصل کرتے ہوئے اس مرتبہ منڈل ایجوکیشن آفیسرس اور چند انتہائی تجربہ کار اساتذہ کی نگرانی میں کتابوں کی باریک بینی سے جانچ کی جارہی ہے۔ تمام کتب کی اچھی طرح جانچ اور غلطیوں سے پاک ہونے کی تصدیق کے بعد ہی اسکولس کو روانہ کیا جارہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ضلع حیدرآباد کو 10,15,989 ضلع رنگاریڈی کو 9,68,620 اور ضلع میڑچل کو 7,47,910 نصابی کتب الاٹ کی گئی ہیں۔نصابی کتابوں کی اسکولس کو مقررہ وقت پر سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے جنگی خطوط پر کام کیا جارہا ہے تاکہ کتب کی بروقت سربراہی سے طلباء کو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ 2؍F