نئے سال سے میٹرو ریل ٹکٹ کی شرحوں پر نظرثانی کا امکان!

   

10 روپئے کا ٹکٹ 20 روپئے اور 60 روپئے کا ٹکٹ 80 روپئے ہونے کی توقع، کمیٹی جائزہ لے رہی ہے
حیدرآباد ۔ 27 ۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد میٹر و ریل کی شرحوں میں نئے سال سے اضافہ ہونے کے امکانات ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ میٹرو ریل کے اخراجات میں اضافہ ہوجانے کے بعد ایل اینڈ ٹی کی جانب سے میٹرو ریل کے ٹکٹ قیمتوں پر نظر ثانی کرنے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں تیز اور محفوظ ٹرانسپورٹ خدمات انجام دینے کے معاملہ میٹرو ریل سب سے آگے ہے ۔ کورونا بحران کے دوران تقریباً 2 سال تک نقصانات میں چلنے والی میٹرو ریل حالات بحال ہونے کے بعد سفر کرنے والے مسافرین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ایل بی نگر ، میاں پور ، جے بی ایس، ایم جی پی ایس ، ناگول اور ناگول کوریڈارس کے حدود میں یومیہ 4.20 لاکھ تا 4.50 لاکھ مسافرین سفر کر رہے ہیں۔ اگر ٹکٹ شرحوں پر نظر ثانی کی جاتی ہے تو کم از کم ٹکٹ کو 10 روپئے سے بڑھاکر 20 روپئے کرنے اور زیادہ سے زیادہ ٹکٹ کی قیمت کو 60 روپئے سے بڑھاکر 80 روپئے کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ فی الحال 2 کیلو میٹر دوری کیلئے 10 روپئے ٹکٹ مقرر کیا گیا ہے ۔ اس طرح 2 تا 4 کیلو میٹر کیلئے 15 روپئے ، 4 تا 6 کیلو میٹر کیلئے 25 روپئے ، 6 تا 8 کیلو میٹر کیلئے 30 روپئے ، 8 تا 10 کیلو میٹر کیلئے 35 روپئے ، 10 تا 14 کیلو میٹر کیلئے 40 روپئے ، 14 تا 18 کیلو میٹر کیلئے 45 روپئے ، 18 تا 22 کیلو میٹر کیلئے 50 روپئے ، 22 تا 26 کیلو میٹر کیلئے 55 روپئے ، 26 کیلو میٹر سے زیادہ سفر کیلئے 60 روپئے ٹکٹ وصول کیاجارہا ہے۔ حیدرآباد میٹرو ریل اور تلنگانہ حکومت کی جانب سے ٹکٹوں کی قیمت پر نظر ثانی کرنے کی دو ماہ قبل مرکزی حکومت سے اپیل کی تھی ، مرکزی حکومت نے دو ماہ قبل قیمتوں پر نظر ثانی کیلئے ریٹائرڈ ہائیکورٹ جج شیام پرساد کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں مرکزی شہری امور ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سکریٹری سریندر کمار باگدے اور ریاستی بلدی نظم و نسق کے اسپیشل سکریٹری اروند کمار کو بحیثیت ارکان شامل کیا گیا ہے۔ن