نائجیریا میں خونریز جھڑپیں، 20 سے زائد افراد ہلاک

   

ٹیریٹری ۔ 15 اگست (ایجنسیز) وسطی نائجیریا میں حریف کمباری اور فولانی برادریوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ رکن پارلیمان جعفر محمد نے بتایا کہ جھڑپوں میں کم از کم 20 افراد مارے گئے ہیں۔ انہوں نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے علاقہ میں سیکوریٹی فورسز کی فوری تعیناتی کا مطالبہ کیا۔ جعفر محمد کے مطابق تشدد میں علاقہ کے کئی نسلی گروہ شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کو 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور خیال یہی ہے کہ یہ ہلاکتیں مقامی ملیشیاؤں کے ہاتھوں ہوئیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہمیں بھاری ہتھیاروں سے لیس سیکوریٹی فورسز کی ضرورت ہے۔ میڈیا سے بات کرنے والے ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ لڑائی فولانی اور کمباری برادریوں کے درمیان ہوئی۔ شدت پسند تنظیموں کی جانب سے فولانی افراد کی بھرتی کے باعث اس برادری کے خلاف مہلک انتقامی کارروائیاں بھی ہوتی رہی ہیں۔ سرکاری فورسز اور مقامی ملیشیاؤں کی ایسی کارروائیوں میں اکثر عام فولانی شہری بھی نشانہ بنتے ہیں۔ نائجیریا کی ریاست نائجر ملک کے وسطی اور شمال مغربی حصوں میں پھیلے ایک وسیع زرعی خطہ میں واقع ہے۔ یہ علاقہ کئی برسوں سے مویشی چوری کرنے والے مسلح گروہوں اور اغوا کاروں کی کارروائیوں کا شکار ہے۔ یہ گروہ آبادیوں پر حملے، شہریوں کو قتل اور گھروں میں لوٹ مار کرتے رہے ہیں۔ ملک کے شمال مشرق میں گزشتہ 17 برس سے شورش جاری رکھنے والے شدت پسند گروہوں نے بھی ریاست نائجر میں اپنی موجودگی کو مستحکم بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ گروہ بعض اوقات مقامی مسلح جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرتے ہیں۔ رواں سال مئی میں فوج کے ساتھ کام کرنے والی ایک مقامی ملیشیا نے اسی علاقہ کے قریب تقریباً 40 فولانی چرواہوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان افراد پر شدت پسند تنظیم انصارو کے لیے مخبری کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔